بین الااقوامی سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سے شادیوں کی تقریبات میں تبدیلی
جموں، 28 اکتوبر ۔ پاکستان رینجرز کی بلااشتعال فائرنگ سے جموں میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ واقع گاوں میں درجنوں شادیوں کی تقریبات میں خلل پڑا ہے اور بہت سے لوگوں کو آخری لمحات میں کچھ رسومات میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ ایشانت سینی اور سنگیتا کی شادی میں پیش آیا جہاں مہمانوں کی اکثریت نے آر ایس پورہ سیکٹر میں پاکستان کی طرف سے شدید گولہ باری کے درمیان دعوت چھوڑ دی۔
پاکستان رینجرز کی طرف سے ارینا سیکٹر میں سرحد پار سے گولہ باری اور فائرنگ تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہی۔آئی بی پر سال 2021 میں ہوئی جنگ بندی کی کے بعد پہلی بڑی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ بارڈر سیکورٹی فورس کے مطابق پاکستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ جمعہ کی صبح تین بجے تک جاری رہی۔ حکام نے بتایا کہ پاکستانی فائرنگ سے ایک بی ایس ایف جوان اور ایک خاتون زخمی ہو گئے، جب کہ گولہ باری سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔
ایشانت سینی کے بھائی دیپک نے کہا کہ ہمیں ان مہمانوں پر افسوس ہے جو ہمارے گاؤں میں پاکستانی گولہ باری کی اطلاع ملنے کے بعد دعوت کا لطف اٹھائے بغیر گھبراہٹ میں چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شادی کی کچھ رسومات میں بھی آخری لمحات میں تبدیلیاں کرنی پڑیں۔ ہماری روایت کے مطابق دلہن کے گھر پھیرے لینے کی تقریب ہونی تھی۔ لیکن سرحد پار سے گولہ باری نے سب کچھ ختم کر دیا۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ سانبہ میں اس وقت دھان کٹائی کا موسم چل رہا ہے لیکن پاکستانی فائرنگ سے مزدور بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ چار سے پانچ سال کے وقفے کے بعد ہے کہ ہمارا گاؤں پاکستان کی طرف سے (مورٹار) گولہ باری کی زد میں آیا ہے۔ گاؤں میں کم از کم نصف درجن گولے گرے۔ 17 اکتوبر کو دو بی ایس ایف اہلکار زخمی ہوگئے جب کہ پاکستانی رینجرس نے ارنیا میں اپنی پوسٹ پر فائرنگ کی لیکن دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ مختصر تھا اور صرف چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ تک محدود رہا۔
اس کے بعد بی ایس ایف نے سرحدوں پر امن کے وسیع تر مفاد میں پاکستان کے ساتھ سخت احتجاج درج کرایا۔ زیرو لائن کے قریب بلے چیک گاؤں کے پاون کمار کے گھر کو بھی مورٹار گولہ پھٹنے سے نقصان پہنچا۔ زیر زمین بنکروں کی دیکھ بھال کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مقامی باشندے وجے کمار نے کہا کہ یہ سانپوں اور زہریلے کیڑوں کے اڈوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پناہ گاہوں کو فوری طور پر صاف کیا جانا چاہیے اور ان میں بجلی کی فراہمی ہونی چاہیے۔
