کانگریس اتحاد کو نظر انداز کر کے ایس پی-بی ایس پی لیڈروں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے!
لکھنؤ، یکم نومبر (ہ س)۔ سیاست ہی وہ واحد مقام ہے جہاں ہنسنا اور رونا دونوں بیک وقت ممکن ہیں۔ یقین نہیں آتا تو اترپردیش میں کانگریس کی سیاسی چالیں دیکھیں۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ ہیں۔ اندرونی طور پر بی ایس پی کے ساتھ کانگریس کے اتحاد کی بات چل رہی ہے۔ اس کے باوجود کانگریس ان دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کو الگ کرکے اپنی پارٹی میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یوپی کانگریس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق کانگریس ہائی کمان کا پیغام ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ معاہدہ ہوگا۔ ان حالات میں اتحاد باقی رہے گا یا نہیں اس کا فیصلہ مستقبل ہی کرے گا لیکن فی الحال سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ بی ایس پی کے ساتھ بھی معاہدے کی بات ہو رہی ہے۔ ہم دونوں کو ایک ساتھ رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔
کانگریس کا ماننا ہے کہ بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کرنے کی صورت میں اگر ایس پی اسے چھوڑ بھی دیتی ہے تو اسے فائدہ ہوگا۔ دریں اثنا کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے مسلسل ایس پی اور بی ایس پی لیڈروں کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک ایس پی اور بی ایس پی کے دو درجن سے زیادہ عہدیدار ان کی پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔
حال ہی میں ایس پی لیڈر راجن کی پی ڈی اے سائیکل یاترا کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔ ریاستی کانگریس صدر اچانک راجن کے گھر پہنچ گئے۔ ہر خوشی اور غم میں ساتھ رہنے کا وعدہ کیا۔ لوگ اسے ان کی سیاسی چال سے جوڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ سماج وادی پارٹی کو محتاط رہنے کا اشارہ بھی ہے۔ پارٹی والوں کا ماننا ہے کہ اکھلیش یادو کا وہاں نہ پہنچنا اور اجے رائے کا وہاں پہنچنا، یادو برادری میں ایک اچھا پیغام گیا ہے۔ اس طرح کانگریس پسماندہ اور دلت طبقات کو نشانہ بنا کر چل رہی ہے جس سے ایس پی اور بی ایس پی دونوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
کانگریس کو اس سب کی وجہ سے سماج وادی پارٹی کے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ مسلسل ایسے کام کر رہی ہے جس سے سماج وادی پارٹی کو جھٹکا لگے گا۔ یہ سب کر کے وہ ایک طرف یہ دکھانا چاہتی ہے کہ اترپردیش میں کانگریس سماج وادی پارٹی کی شرائط پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف بی ایس پی سے اندرونی طور پر بات کرکے یہ بھی دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر ایس پی نہیں آئی تو اس کی سیاسی دشمن بی ایس پی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
