کولکاتا، 27 دسمبر (ہ س)۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے ایک اہم اسٹریٹجک میٹنگ کرنے کے لیے بنگال پہنچے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور جے پی نڈا کا منگل کو ایک روزہ دورہ بہت خاص تھا۔ انہوں نے بند کمرے کے اندر پارٹی رہنماوں کے ساتھ اہم تنظیمی حکمت عملی بنائی۔ اس میں ایک اہم فیصلہ پارٹی کے مشہور لیڈر انوپم ہزارہ کے حوالے سے لیا گیا ہے۔ انہیں فوری طور پر قومی جنرل سکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
پارٹی فورم کے باہر عوام میں پارٹی کے خلاف بیان بازی کرنے والے انوپم کے خلاف یہ دوسری بڑی کارروائی ہے۔ اس سے قبل رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں ان کی مرکزی سکیورٹی ہٹا دی گئی تھی۔ لوک سبھا انتخابات سے قبل پارٹی کے خلاف باغیانہ رویہ اختیار کرنے والے لیڈروں کے لیے یہ ایک بڑا پیغام مانا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انوپم ہزارہ کے بی جے پی میں مستقبل کو لے کر بھی سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے بغیر کسی شور شرابے کے مرکزی قیادت نے ان کی سیکورٹی ہٹا دی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ انہوں نے ریاستی بی جے پی لیڈروں پر غیرمتحرک ہونے سمیت کئی سنگین الزامات لگائے تھے۔ انہیں ریاستی بی جے پی کی طرف سے بار بار انتباہ دیا گیا اور کہا گیا کہ اگر کچھ کہنا ہے تو پارٹی کی اندرونی میٹنگ ہوتی ہے تو اس میں کہیں۔ یہ کھل کر کہہ کر پارٹی کو مشکل میں نہ ڈالیں۔ اس کے باوجود وہ باز نہیں آرہے تھے۔ اس کے بعد بنگال بی جے پی میں انہیں نکالنے کے مطالبات بار بار اٹھ رہے تھے۔ تاہم مرکزی قیادت نے اس پر خاموشی برقرار رکھی۔ اب منگل کو انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جس کے بعد ان کا مستقبل تاریک میں ہے۔
ہندوستھان سماچار//سلام
