نئی دہلی، 25 نومبر(ہ س)۔ وشو ہندو کانگریس-2023 کا آج بنکاک میں آغاز ہوا۔ اس عالمی اسٹیج پر ہندو رہنما، مفکرین اوربا اثرشخصیات ایک ساتھ جمع ہوکر اپنی وراثت کا جشن مناتے ہیں۔ اس موقع پر آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے کہا کہ جے (جیت) کا مطلب ہے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
افتتاحی تقریب آج چھترپتی شیواجی مہاراج ہال (رائل جوبلی امپیکٹ کنونشن سنٹر)، بنکاک میں منعقد ہوئی۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے دنیا کے 61 ممالک سے 2000 مندوبین یہاں پہنچے ہیں۔
تین روزہ پروگرام میں ہندو تنظیموں کی کانفرنس، ہندوایجوکیشن کانفرنس،ورلڈ ہندو اکنامک فورم، ہندو میڈیا کانفرنس، ہندو پولیٹیکل کانفرنس، ہندو یوتھ کانفرنس اور ہندو ویمن کانفرنس سے متعلق موضوعات ہوں گے۔
آج افتتاحی اجلاس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے اس طویل سفر میں مذہب کے کردار کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ جے کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ کسی پر فتح حاصل کرنا یا اسے اپنے حصول کے بارے میں نہیں ہے۔ جے کا مطلب ہے سب کو متحد کرنا ہے ۔
موہن بھاگوت نے وجے کی تین شکلوں، تمس، راجس اور ست پر اپنے خیالات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ تمس میں دوسروں کی تباہی ،راجسو میں دوسروں کے وسائل پر قبضہ کیا جاتا ہے۔بھارت کی ’وجے‘ سچائی میں ہے جس میں مذہب کو فوقیت حاصل ہو۔
آج کے پروگرام میں ماتا امرتانندمئی دیوی، بھارت سیواشرم سنگھ کے سوامی پورناتمانند مہاراج اور ہندو مذہب کے ست گرو بودھی ناتھ ویلانسوامی کو ہندو سماج میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس دوران تھائی لینڈ کی وزیر اعظم شریتھا تھاوسین کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ انہوں نے کہا،”تھائی لینڈ کو ورلڈ ہندو کانگریس 2023 کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا، جو ہندو مذہب کے اصولوں اور قدر کے پابند دنیا بھر کے افراد کو اکٹھا کرتی ہے۔ یہ اجتماع ہمیں اپنے مشترکہ مذہبی ورثے کو منانے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے“۔
ہندوستھان سماچار
