کھٹمنڈو ۔ روسی فوج میں شامل ہونے والے 300 نوجوانوں سے رابطہ نہیں کیا جا سکا۔ نیپال سے روسی فوج میں کام کرنے کے لیے جانے والے نوجوانوں کے خاندانوں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے حکومت کو بتایا کہ اب تک جو 1200 خاندان ان سے رابطے میں آئے ہیں، ان میں سے 300 خاندان ایسے ہیں جن سے گزشتہ چھ ماہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکاہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ہزاروں نیپالی شہری روسی فوج میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان نوجوانوں میں سے کچھ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جنگ کے دوران مارے گئے ہیں اور کچھ کو یوکرین کی فوج نے یرغمال بنا لیا ہے۔ نیپالی حکومت نے بھی سرکاری طور پر نیپالی نوجوانوں کے روسی فوج میں شامل ہونے اور ان کے قتل کی تصدیق کی ہے لیکن اب تک نیپال حکومت ایک بھی نیپالی نوجوان کی میت واپس لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
دریں اثنا، روسی فوج میں شامل ہونے والے نوجوانوں کے خاندانوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم جیون رکشا ابھیان کی کرتو بھنڈاری نے بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ میں 1200 ایسے نیپالی خاندان ان سے رابطے میں آئے ہیں جن کے رشتہ دار روسی فوج میں شامل ہوئے ہیں۔ بھنڈاری نے کہا کہ ان میں سے تقریباً 300 خاندان کے افراد نے بتایا کہ روسی فوج میں کام کرنے والے ان کے رشتہ دار نے گزشتہ 6 ماہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔
بھنڈاری کے مطابق حکومت نے اب تک صرف 17 نیپالی نوجوانوں کی موت کی تصدیق کی ہے جب کہ یہ تعداد 100 سے زیادہ ہے۔ حکومت صرف ان لوگوں کی موت کی تصدیق کر رہی ہے جن کی لاشیں مل رہی ہیں یا جن کی لاشوں کی شناخت ہو رہی ہے۔
