حماس کا منصوبہ سال بھر پہلے جان کر بھی انجان رہا اسرائیل، امریکی اخبار کا خلاصہ
نیویارک، یکم دسمبر (ہ س)۔ اسرائیل کو ایک سال قبل یہ اشارہ ملا تھا کہ فلسطین کی جنگجو تنظیم حماس اس پر حملہ کر سکتی ہے۔ لیکن اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس افسران کا خیال تھا کہ حماس کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوگا۔ اس لیے اس معلومات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ یہ دعویٰ امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق دستاویزات، ای میلز اور انٹرویوز سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی حکام کو 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے لیے حماس کا جنگی منصوبہ ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل موصول ہوا تھا۔ یہ تقریباً 40 صفحات پر مشتمل دستاویز ہے۔ اسے اسرائیلی حکام نے ’’جیریکو وال‘‘ کا نام دیا تھا۔
نیویارک ٹائمز نے اس دستاویز کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’جیریکو وال‘‘ حملے کی کوئی مقررہ تاریخ نہیں تھی لیکن یہ غزہ کی پٹی کے ارد گرد قلعوں کو تباہ کرنے، اسرائیلی شہروں پر قبضہ کرنے اور ایک ڈویژن سمیت اہم فوجی اہداف پر حملہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ حماس نے یہ حملہ اپنے بلیو پرنٹ کے مطابق چونکا دینے والی درستگی کے ساتھ کیا۔ دستاویز میں حملے کے آغاز پر راکٹوں کی بوچھار، بارڈر سیکورٹی کیمروں اور خودکار مشین گنوں کو تباہ کرنے کے لیے ڈرون اور پیرا گلائیڈرز، موٹرسائیکلوں اور بندوق برداروں کو پیدل اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے کہا گیا تھا… اوریہ سب کچھ 7 اکتوبر کو اسرائیل میں ہوا۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو یا دیگر اعلیٰ سیاسی رہنماوں نے اس دستاویز کو دیکھا تھا یا نہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
