ٹوکیو، 7 جنوری (ہ س)۔ جاپان میں سیاسی چندہ گھوٹالے کی آگ میں جھلس رہی حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو اتوار کو بڑا دھچکا لگا۔ جاپانی استغاثہ نے ایوان زیریں کے رکن یوشیتاکا اکیدا کو گرفتار کر لیا۔ اس گھوٹالے کے سلسلے میں پہلی گرفتاری کے بعد الزامات میں گھرے دیگر لیڈروں پر بھی گرفتاری کی تلوار لٹک گئی ہے۔
مقامی اخبار جاپان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جاپانی استغاثہ اس اسکینڈل کی جانچ کے سلسلے میں دسمبر کے آخری ہفتے سے آنجہانی وزیر اعظم شنزو آبے کے قریبی رہنماوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ 25 دسمبر کو استغاثہ نے سابق اعلیٰ حکومتی ترجمان ہیروکازو ماتسونو اور آنجہانی سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے قریبی دیگر رہنماوں سے اسکینڈل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی۔ ان تمام پر عطیات کے طور پر جمع کیے گئے فنڈز میں کروڑوں یین کا غبن کرنے کا الزام ہے۔
اخبار کے مطابق استغاثہ نے ایوان زیریں کے رکن اکیدا یوشیتاکا کو سیاسی فنڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کے شبہ میں گرفتار کیا ہے۔ استغاثہ نے 27 دسمبر کو اکیدا کے دفاتر پر چھاپے مارے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اکیدا کے دفتر نے 2022 سے لے کر پانچ سال کے عرصے کے دوران 48 ملین یین (331,000 ڈالر) سے زیادہ کا غلط استعمال کیا۔ اکیدا اکتوبر 2021 سے اگست 2022 تک وزیر مملکت برائے تعلیم رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق استغاثہ نے گروپ کے چیئرمین ریو شیونویا، سابق جنرل سکریٹری تیوشی تاکاگی اور ہاوس آف کونسلرز میں پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری ہیروشیگے سیکو سے بھی پوچھ گچھ کی۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکمراں جماعت کے ماتسونو، تاکاگی اور سیکو نے 2022 سے لے کر پانچ سالوں میں 10 ملین یین سے زیادہ کا غبن کیا ہے۔ اس عرصے میں تقریباً 500 ملین یین چندہ کیے گئے۔
ہندوستھان سماچار//سلام
