منصوبہ دو سال میں مکمل ہونا تھا، پانچ سال میں صرف 40 فیصد کام
کھونٹی، 7 جنوری (ہ س)۔ کھونٹی اربن واٹر سپلائی اسکیم جو کہ پانچ سال قبل کھونٹی کے شہری علاقے میں آئندہ 40 سالوں کی ممکنہ آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کی گئی تھی، اپنی سست رفتاری کی وجہ سے ابھی تک پوری نہیں ہوسکی ہے۔ 59.54 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہونا تھا لیکن کام کرنے والی ایجنسی جوڈکو کے حکام کی عدم توجہی کے باعث 5 سال گزرنے کے باوجود 40 فیصد بھی کام نہیں ہو سکا۔ مکمل شہری واٹر سپلائی اسکیم کے ذریعے بلاتعطل پانی حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے شہر کے لوگوں کے لیے یہ اسکیم اب بھی دور کا خواب ہے۔
کھونٹی اربن واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 59.54 کروڑ روپے کی لاگت کے معاہدے پر 18 جنوری 2019 کو دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے مطابق منصوبہ دو سال میں مکمل ہونا تھا لیکن جس رفتار سے کام ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ منصوبہ دس سال میں بھی مشکل سے مکمل ہو سکے گا۔ کھونٹی نگر پنچایت علاقے میں آئندہ 40 سال بعد تک بڑھنے والی آبادی کو معقول پانی سپلائی ہوسکے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت کے دیہی ترقیات وزیر نیل کنٹھ سنگھ منڈا کی کوششوں سے این ڈی اے حکومت نے عالمی بینک کے تعاون سے کھونٹی اربن واٹر سپلائی اسکیم شروع کی تھی۔ سال 2018 میں اس وقت کے شہری ترقیات وزیر سی پی سنگھ نے نگر بھون کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔
جوڈکو کی نگرانی میں چل رہی اس اہمیت کی حامل اسکیم کا کام تمل ناڈو کے شری رام ای پی سی کو سونپا گیا ہے۔ کمپنی جس سست رفتاری کے ساتھ کام کر رہی ہے، اس کے پیش نظر یہ بالکل بھی ممکن نہیں ہے کہ کام 2024 میں تو کیا 2030 تک اسکیم پوری ہوسکے گی۔
اسکیم میں سست روی پر ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے کئی بار کمپنی حکام کی سرزنش بھی کر چکے ہیں لیکن کمپنی کے کام کاج میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ اس اہم اسکیم میں شہر کے مختلف علاقوں میں ایک نیا فلٹریشن پلانٹ اور مختلف صلاحیتوں کے تین نئے واٹر ٹاور تعمیر کئے جانے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں پائپ لائنیں بھی بچھائی جانی ہیں۔ ان میں سے فلٹریشن پلانٹ اور واٹر ٹاورز کی تعمیر کا کام تاحال مکمل نہیں ہو سکا ہے۔
ہندوستھان سماچار//سلام
