امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں غیر ملکی طلباء پر پابندی کے حکومتی فیصلے کا بھرپور دفاع کیا ہے، جسے ایک جج نے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی طلباء، خاص طور پر وہ جو امریکہ کے “دشمن” ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، بغیر کسی ادائیگی کے امریکہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ہارورڈ جیسے ادارے انہیں فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس معاملے پر عدالتی اور سیاسی کشمکش جاری ہے، اور حکومت کی جانب سے مالی امداد اور ویزا پالیسیوں میں بھی سختی دیکھی جا رہی ہے۔
BulletsIn
-
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہارورڈ کے 31 فیصد طلباء غیر ملکی ہیں، مگر ان کے ممالک تعلیمی اخراجات ادا نہیں کرتے۔
-
ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ چونکہ حکومت ہارورڈ کو اربوں ڈالر دیتی ہے، اس لیے غیر ملکی طلباء کی تفصیلات جاننا ان کا حق ہے۔
-
ہارورڈ نے حکومتی فیصلے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا۔
-
ایک جج نے فوری طور پر غیر ملکی طلباء کی پابندی کو معطل کر دیا۔
-
محکمہ داخلی سلامتی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے غیر ملکی طلباء کی اہلیت منسوخ کر دی تھی، جس سے ہزاروں طلباء متاثر ہوئے۔
-
نوم نے مطالبہ کیا تھا کہ یونیورسٹیاں ویزا ہولڈرز کی غیر قانونی سرگرمیوں کا ریکارڈ فراہم کریں۔
-
ٹرمپ انتظامیہ امریکی یونیورسٹیوں پر کریک ڈاؤن کر رہی ہے، جس کا جواز یہود دشمنی اور تنوع کے پروگراموں کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔
-
حکومت نے غزہ جنگ کے خلاف مظاہروں میں شامل غیر ملکی طلباء کے ویزے منسوخ کرنے اور ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
-
ہارورڈ کو دی جانے والی 9 بلین ڈالر کی مالی امداد پر نظرثانی کی دھمکی دی گئی ہے، اور ابتدائی 2.2 بلین ڈالر کی گرانٹ روک دی گئی ہے۔
-
ہارورڈ کی غیر ملکی طلباء پر انحصاری اس کے لیے مالی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ یونیورسٹی ان سے بھاری فیسیں وصول کرتی ہے۔
