تل ابیب/یروشلم، 29 اکتوبر (ہ س)۔ رواں ماہ کی سات تاریخ کو فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کے اسرائیل پر وحشیانہ حملے کے بعد پوری غزہ کی پٹی آگ کا گولہ بن گئی ہے۔ اسرائیل کی فوج جدید ترین ٹینکوں کے ساتھ شمالی غزہ میں داخل ہو گئی ہے۔ فضائیہ مسلسل راکٹ اور میزائل داغ رہی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے بعض مقامات پر اپنے ملک کا پرچم لہرا دیا ہے۔ دریں اثناء اسرائیل نے شمالی غزہ کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر جنوبی غزہ منتقل ہو جائیں۔ نیز اسرائیل کسی بھی وقت غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے اسپتال الشفا اسپتال کے نیچے واقع حماس کے ناقابل تسخیر قلعے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ غزہ کی پٹی پر جنگ کا آج تئیسواں دن ہے۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کی شب ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ جنگ کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ میں داخل ہو کر حملہ کر رہی ہے۔ یہ اسرائیل کی آزادی کی دوسری لڑائی ہے۔ اسرائیلیوں کو ایک طویل اور مشکل دور سے گزرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس جنگ میں اسرائیل کا مقصد واضح ہے۔ اسرائیل حماس کو تباہ کر کے یرغمالیوں کو واپس لائے گا۔ حماس حملوں سے بچنے کے لیے عام لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انسانیت اور اپنے وجود کے تحفظ کے لیے حماس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔
جنگ کے تئیسویں دن اسرائیلی سیکیورٹی فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ حماس کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چن چن کر تباہ کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نیتن یاہو نے یرغمالیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔ حماس کی قید میں 229 شہری ہیں۔ حماس نے انہیں سرنگوں میں قید کر رکھا ہے۔ حماس نے غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفاء کے نیچے اپنا ناقابل تسخیر قلعہ بنا رکھا ہے۔ یہاں سرنگیں ہیں۔ یہاں پر ہزاروں دہشت گرد بھی چھپے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہا ہے کہ شمالی غزہ میں رہنے والے لوگ فوری طور پر جنوب میں محفوظ علاقوں میں منتقل ہو جائیں۔ وہاں ان کے لیے دوا، پانی اور کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اسرائیل کی لڑائی عام شہریوں سے نہیں، صرف حماس سے ہے۔
ادھر ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ اسرائیلی فوجی شمالی غزہ میں اسرائیلی پرچم بلند کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 401ویں بریگیڈ کی 52ویں بٹالین کے سپاہیوں نے غزہ کے وسط میں ساحل سمندر پر اسرائیلی پرچم لہرایا۔ حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 8000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
کچھ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان السعود پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے حکام سے بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔ اس پیش رفت کے درمیان اسرائیل نے ترکی سے اپنے تمام سفارت کاروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کا یہ ردعمل ترک صدر رجب طیب اردگان کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اردگان نے ہفتے کے روز استنبول میں ایک فلسطینی حامی ریلی میں کہا کہ وہ اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مغرب پر اسرائیل کے حملے کو روکنے میں ناکام ہونے کا الزام بھی لگایا۔
ادھر حماس نے کہا ہے کہ وہ مغوی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے اسرائیل کو اپنی تحویل میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہو گا۔
ہندوستھان سماچار
