اسلام آباد، 3 مارچ
عام انتخابات کے 24 دن بعد اتوار کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے عہدے کا انتخاب ہوگا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس صبح 11.30 بجے شروع ہوگا۔ اس کے لیے نواز شریف کی مسلم لیگ ن اور بلاول بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان اتحاد ہے اور اتحاد کی جانب سے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار قرار دیا گیا ہے۔
اس الیکشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے تحت وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شہباز شریف کا انتخاب یقینی سمجھا جا رہا ہے۔ اس اتحاد کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم- پی) اور استحکام پاکستان پارٹی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی (ف) نے انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات 8 فروری کو ہوئے تھے۔ تمام سیٹوں کے نتائج کا اعلان 11 فروری کو کیا گیا تھا۔ اس میں کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی۔ تاہم عمران کی حمایت کرنے والے آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ 93 نشستیں حاصل کیں۔ مسلم لیگ ن کو 75 اور پیپلز پارٹی کو 54 نشستیں ملیں۔ پاکستان اسمبلی میں کل 266 نشستیں ہیں اور اکثریت کے لیے 134 نشستیں درکار ہیں۔
قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب کیا گیا جس میں نومنتخب ارکان اسمبلی نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات یکم مارچ کو ہوئے۔ دونوں عہدوں پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوئے۔
پاکستان میں صدارتی انتخابات 9 مارچ کو ہوں گے۔ جس کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد نے آصف علی زرداری کو امیدوار قرار دے دیا ہے۔
پاکستان میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد وزیراعظم کے عہدے کے لیے پارلیمنٹ میں الگ سے انتخاب ہوتا ہے۔ پاکستان میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے لیے امیدوار کو 336 میں سے 169 ارکان کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو صرف اس امیدوار کو ووٹ دینا ہوتا ہے جس کی حمایت ان کی جماعت کرتی ہو۔ صرف مسلم رکن پارلیمنٹ ہی پاکستان کا وزیراعظم بن سکتا ہے۔
