حیدرآباد، 23 ۔ جنوری(ہ س)۔ اے آئی ایم آئی کے صدر اسدالدین اویسی نے”رام کے نام“کے دستاویزی فلم کی نمائش پرتین افرادکی گرفتاری پررچہ کنڈہ پولیس کو شدید تنقید کانشانہ بنایا اورکہا کہ رچہ کنڈا پولیس کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ دستاویزی فلم ”رام کے نام“ کی نمائش کودرمیان میں کیوں روکاگیااور3افراد کوکیوں گرفتار کیاگیا؟انہوں نے پوچھا کہ ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم کی اسکریننگ کیسے جرم ہے؟ اگر ہے تو پھر حکومت ہند اور فلم فیئر کواس فلم کوایوارڈ دینے کے سبب جیل جانا چاہئے۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ ایک فلم دیکھنے کے لیے کیا ہمیں پولیس سے پری اسکریننگ سرٹیفکٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا؟رچہ کنڈا پولیس نے سینک پوری میں ایک ریسٹورنٹ میں جاری اس دستاویزی فلم کی نمائش کو روک دیا اور منتظمین کے خلاف کیس درج کرلیا۔پولیس کی کارروائی کے بعد ایکس پر اسدالدین اویسی کایہ تبصرہ سامنے آیا۔ آنند پٹوردھن نے یہ دستاویزی فلم بنائی ہے جو 6 دسمبر 1992 کوایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعات کے ارد گرد گھومتی ہے۔ رتوک نامی ایک شخص کی شکایت پر پولیس نے کیس درج کرلیا۔اپنی شکایت میں رتوک نے کہاکہ چند افراد کی جانب سے اس فلم کا مشاہدہ کرنے اور مباحث سے ہندؤں کے مذہبی جذبات مجروم ہوئے ہیں۔ شکایت کے اندراج کے بعد پولیس مقام پر پہنچی اور دستاویزی فلم کی نمائش کو روک دیا اور نریڈ میٹ پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کرلیاگیا۔
