نئی دہلی، 6 نومبر ۔
ستپال مہاراج نے ایک بار پھر مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے اور قتل کرنے کے عمل کو روکنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ محض باتوں سے رکنے والا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ہمیں ہندوستان کے باباو¿ں اور رشیوں کے فارمولے کو اپنانا ہوگا، جو تمام تفریق کو مٹا کر انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ وہ آج شری ہنس نگر آشرم، پنڈوالا کلاں میں مانو اتھان سیوا سمیتی کے زیر اہتمام سہ روزہ سدبھاونا سمیلن کے آخری دن ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے عقیدت مندوں سے خطاب کر رہے تھے۔
ستپال مہاراج نے اپنے خطبہ میں کہا کہ کچھ لوگ مذہب اور مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے قتل کو مذہب سمجھتے ہیں، حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ اس کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ چیز خدا کی مخلوق پر بدنما داغ کی طرح ہے۔ ایسے میں دنیا میں پھیلتی اس نفرت کو دور کرنے کے لیے ہندوستان کے عقلمند سنتوں کو آگے آنا ہوگا۔
ستپال مہاراج نے ہندوستانیوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ ‘سیو دی ورلڈ کانفرنس’ کا انعقاد شری ہنس جی مہاراج نے 18 اور 19 نومبر 1962 کو ملک کی راجدھانی دہلی کے رام لیلا میدان میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا میں ایٹم بم اور اس کے ہولناک نتائج پر بحث ہو رہی تھی، شری ہنس جی مہاراج نے اس کانفرنس کا انعقاد کر کے سب کی توجہ تخفیف اسلحہ کی طرف مبذول کرائی تھی۔ ستپال مہاراج نے کہا کہ ایٹم بم کا خطرہ پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ آج پوری دنیا بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے۔ ایسے میں ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ دنیا کیسے بچ پائے گی؟
