نئی دہلی ۔
دہلی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بدھ کو ہنگامہ آرائی سے متاثر ہوا۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو حکمراں پارٹی کے اراکین اسمبلی نے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ ایوان کی کارروائی دو بار 15 منٹ کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ اس کے بعد 11.45 پر دوبارہ کارروائی شروع ہوئی۔ اس کے بعد بھی حکمراں پارٹی کے ایم ایل ایز کا مظاہرہ جاری رہا۔ اس کے بعد اسمبلی اسپیکر رامنیواس گوئل نے ایوان کی کارروائی یکم اپریل تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل، آپ کے ممبران اسمبلی جو اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے تھے، پیلے رنگ کی ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے جن پر ‘میں بھی کیجریوال’ لکھا ہوا تھا۔ تمام اراکین اسمبلی نے اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔ نعرے لگائے اور مرکزی حکومت پر سنگین الزامات لگائے۔
دوسری طرف آپ کے ایم ایل اے پروین کمار لوہے کی زنجیروں میں لپٹے اسمبلی پہنچے تھے۔ اسمبلی اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی عام آدمی پارٹی کے تمام ایم ایل اے اور وزراء نے احاطے میں بی جے پی کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آمریت نہیں چلے گی۔ اس کے بعد وہ سب گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے بیٹھ گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔
اس مظاہرے میں شریک دہلی حکومت کے سابق وزیر راجندر گوتم نے کہا کہ ای ڈی مرکزی حکومت کا ہتھیار ہے۔ اسے صرف اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی بانڈز پر جو فہرست سامنے آئی ہے اس میں 41 کمپنیاں ہیں جن کے خلاف ای ڈی نے کارروائی کی ہے۔ جب انہوں نے بی جے پی کو کروڑوں روپے کا عطیہ دیا تو ان کمپنیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں کس طرح ہتھیار کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے نریلا ایم ایل اے شرد چوہان نے کہا کہ ہمارا احتجاج وزیر اعلی اروند کیجریوال کی گرفتاری کے خلاف ہے۔
دہلی حکومت کے وزیر گوپال رائے نے کہا کہ مرکزی حکومت کی آمریت کے خلاف نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک اور یہاں تک کہ دنیا بھر میں چرچا ہے۔ اس کارروائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
