کولکاتہ، 22 ،ستمبر (ہ س)۔
مغربی بنگال کے پرولیا ضلع میں کڑمی برادری کے احتجاج کے دوران پولیس پر حملہ کرنے کے الزام میں 29 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ہفتہ کو کوٹشیلا ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا، جہاں کمیونٹی کے افراد نے شیڈول ٹرائب کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پرتشدد مظاہرہ کیا۔
احتجاج کے دوران دو آئی پی ایس افسران سمیت کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ صورتحال بگڑتے ہی پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
پرولیا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیجیت بنرجی نے پیر کو بتایا کہ کوٹشیلا اسٹیشن پر حالات اب معمول پر ہیں، اور ٹرین خدمات آہستہ آہستہ بحال کی جارہی ہیں۔ تاہم کڑمی برادری کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو دبانے کے نام پر دہشت پھیلا رکھی ہے۔
دریں اثناء کڑمی برادری کے رہنما اجیت پرساد مہتو نے کہا کہ ان کے کئی رہنما اور حامی پولیس کی دھمکیوں کی وجہ سے روپوش ہو گئے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے مختلف مقامات پر چوکیاں قائم کر کے انہیں سڑکیں بلاک کرنے سے روک دیا۔ احتجاج کے طور پر، کمیونٹی نے 5 اکتوبر کو درگا پوجا کے بعد پرولیا شہر کے ٹیکسی اسٹینڈ پر پولیس دہشت گردی مخالف میٹنگ کا اعلان کیا ہے۔
پولیس نے کہا کہ انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں کارروائی کی ہے۔ ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے حال ہی میں ریلوے انتظامیہ اور ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ 20 ستمبر کو کڑمی کمیونٹی کی طرف سے منصوبہ بند ریل بند سے عام زندگی متاثر نہ ہو۔
قابل ذکر ہے کہ قبائلی کڑمی برادری نے گزشتہ ماہ مغربی بنگال، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کے قبائلی اکثریتی علاقوں میں ریل بند کرنے کی کال دی تھی۔ ان کا بنیادی مطالبہ کڑمی برادری کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دینا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ
