لندن،22ستمبر(ہ س)۔پہلی مرتبہ برطانوی حکومت نے اپنے سرکاری آن لائن نقشہ جات اور مختلف پلیٹ فارمز پر فلسطینی مقبوضہ علاقوں کے بجائے ریاستِ فلسطین کا اندراج کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کیر اسٹارمر نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان کینیڈا اور آسٹریلیا کے فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ ہے جنہوں نے بھی فلسطین کو تسلیم کیا۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق فلسطین کو خود مختار ریاست تسلیم کرنے کے بعد وزارتِ خارجہ کی متعدد ویب سائٹ صفحات میں فلسطینی مقبوضہ علاقے کی جگہ فلسطین کا نام درج کر دیا گیا۔ ان تبدیلیوں میں وہ صفحات بھی شامل ہیں جن میں اسرائیل اور فلسطین سے متعلق سفری ہدایات، وزارتِ خارجہ کے غیرملکی دفاتر کی فہرست اور خطے کا نقشہ شامل ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اتوار کو وزیراعظم کیر اسٹارمر نے پریس کانفرنس میں ریاستِ فلسطین کے باضابطہ اعتراف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی ہولناکی کے مقابلے میں ہم امن اور دو ریاستی حل کے امکان کو برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس کا کوئی مستقبل نہیں، نہ حکومت میں کردار ہوگا نہ سکیورٹی کے شعبے میں۔
یاد رہے کہ برطانیہ جی-سیون کے ان تین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے۔ اس سے قبل کینیڈا اور آسٹریلیا یہ اعلان کرچکے ہیں۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سعودی-فرانسیسی سربراہی میں ایک کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے جس میں توقع ہے کہ مزید ممالک بالخصوص فرانس ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
