تاج پور بندرگاہ کی تعمیر کے سلسلے میں اڈانی گروپ سے بات چیت جاری، ممتا نے نیا ٹینڈر طلب کیا تھا
کولکاتا، 27 نومبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی جانب سے اڈانی کے رشوت لینے کے خلاف پارلیمنٹ میں سوالات پوچھے جانے کے بعد یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کاروباری گروپ کے ساتھ ریاستی حکومت کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ حال ہی میں ختم ہونے والی دو روزہ مغربی بنگال گلوبل بزنس سمٹ میں، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست کی مشہور تاج پور بندرگاہ پر کام کو آگے بڑھانے کے لیے اڈانی گروپ کے علاوہ کسی بھی صنعتی گھرانے سے ٹینڈر طلب کیا تھا لیکن اب ان کے کابینہ کے وزیر ششی پانجا نے وضاحت کی ہے کہ اس بندرگاہ کی ترقی کے سلسلے میں اڈانی گروپ کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا ممتا بنرجی نے بزنس سمٹ جیسے عالمی پلیٹ فارم کا استعمال صرف اڈانی گروپ کو نیچا دکھانے کے لیے کیا؟ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ یہ گروپ اس بندرگاہ کی ترقی میں کتنا کام کرے گا۔
مغربی بنگال کی مجوزہ تاج پور بندرگاہ کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ریاستی حکومت کے سینئر وزیر ششی پانجا نے کہا ہے کہ اس پروجیکٹ پر کام جاری ہے اور اڈانی گروپ کے ساتھ اس کے بارے میں بات چیت چل رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گزشتہ منگل کو بنگال گلوبل بزنس سمٹ میں کہا تھا کہ تاج پور بندرگاہ کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی تھیں کہ اس بندرگاہ کا کام کسی اور صنعتی گروپ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ ادھر ان کی ہی کابینہ کے وزیر کے متضاد بیانات سرخیوں میں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
