نئی دہلی، ۔
مرکزی اطلاعات و نشریات اور نوجوانوں اور کھیلوں کے امور کے وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے بدھ کے روز شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر اپوزیشن کے بیانات کو غیر حساس جھوٹا پروپیگنڈہ قرار دیا۔ نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قانون شہریت لینے کا نہیں بلکہ شہریت دینے کا قانون ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے بیانات کو انتہائی غیر حساس قرار دیتے ہوئے انوراگ ٹھاکر نے کہا، اروند کیجریوال نے سیاست کو خراب کر دیا ہے۔ آج صبح ان کا بیان سن کر مجھے بہت تکلیف ہوئی، میں نے سوچا کہ کوئی شخص اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا پاکستان میں ایسا ہوتا ہے؟ افغانستان اور بنگلہ دیش میں اگر ہندو، سکھ، بدھ، پارسی یا عیسائی کی 12 سالہ لڑکی کو زبردستی اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا جائے اور پھر اس کا مذہب تبدیل کر کے اس کی شادی کر دی جائے تو ذرا سوچئے کہ ان کا اور ان کے گھر والوں کا کیا درد ہو گا۔ کیا تکلیف ہوگی؟اروند کیجریوال بھی ایک لڑکی کے باپ ہیں، کیا وہ ان غریب والدین کا درد نہیں دیکھ سکتے، ان مصیبت زدہ بچیوں کی ماں سے پوچھیں کہ درد کیا ہے؟، اس پر اروند کیجریوال پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ ملک کے دارالحکومت سے، کیا آپ پوچھ رہے ہیں کہ اسے کیوں لایا جا رہا ہے؟
انوراگ ٹھاکر نے کہا، ملک کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ وہاں رہ جانے والے ہندوو¿ں اور دیگر اقلیتوں کے بارے میں نہرو جی نے کہا تھا کہ انہیں وہاں تحفظ ملے گا، لیکن کانگریس نے 70 سالوں میں انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا۔ مودی جی نے وہ کام کر دکھایا جو کانگریس 70 سالوں میں نہ کر سکی۔مودی حکومت نے تشدد کا نشانہ بننے والے ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ، جین یا پارسی خاندانوں کو شہریت دینے کا کام کیا ہے۔
انوراگ ٹھاکر نے مزید واضح کیا کہ یہ شہریت دینے کا قانون ہے اور اس سے ہندوستان کے کسی بھی شہری کی شہریت نہیں چھینی جائے گی۔ جب افغانستان میں گرو گرنتھ صاحب اور ہمارے سکھ بھائیوں کو خطرہ تھا تو مودی نے ایک بار نہیں بلکہ تین بار خصوصی طیارے بھیجے اور انہیں بحفاظت بھارت لے آئے۔ کیا اپوزیشن چاہتی ہے کہ دلت اور دیگر پسماندہ ذات کے لوگ جو پڑوسی ممالک سے ظلم و ستم کا شکار ہو کر ہندوستان آئے تھے، انہیں شہریت نہ دی جائے۔ یہاں دو، دو، تین نسلیں گزر گئیں، پھر بھی انہیں شہریت نہیں ملی؟ آخر اپوزیشن کیا چاہتی ہے؟
