ممبئی، 5 جولائی (ہ س)۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد
پوار گروپ) کی ممتاز رہنما سپریا سولے نے مہاراشٹر میں جماعت اول سے ہندی کو لازمی
بنانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب گجرات، کیرالہ، تمل ناڈو
اور اڑیسہ جیسی ریاستوں پر ایسی کوئی شرط عائد نہیں، تو مہاراشٹر میں یہ زبردستی کیوں
کی جا رہی ہے؟ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے ہندی کو لازمی بنانے کے حکومتی فیصلے
کو سیاسی مداخلت قرار دیا اور کہا کہ تعلیمی پالیسیوں کو ماہرین کی سفارشات کی
روشنی میں مرتب کیا جانا چاہیے نہ کہ ووٹ بینک کی سیاست پر۔
سولے نے کہا کہ حکومت بچوں پر ایک ساتھ
تین زبانیں تھوپ رہی ہے اور پھر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس سے طلبہ پر بوجھ کم ہوگا،
جو سراسر تضاد ہے۔ انہوں نے تعلیمی شعبے میں پائی جانے والی اساتذہ کی کمی،
اسکولوں کی زبوں حالی اور نصاب کے معیار میں کمی جیسے اہم مسائل پر توجہ دینے کی
ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندی نافذ کرنے کی کوشش، جب دیگر ریاستیں اس
پر عمل نہیں کر رہیں، مہاراشٹر میں علاقائی شناخت کو کچلنے کے مترادف ہے۔
سپریا سولے نے مزید کہا کہ حکومت ایک
جانب اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر بنانے میں ناکام ہے اور دوسری جانب ہندی مسلط
کرنے جیسے فیصلوں پر وسائل صرف کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب ملک کی
متعدد ریاستیں ہندی کو لازم نہیں کر رہیں تو مہاراشٹر میں اس کا جواز کیا ہے؟
انہوں نے پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین
کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا اور خبردار کیا کہ ایسے قوانین کا مقصد جمہوری
مخالفت کو خاموش کرنا بن سکتا ہے۔ سولے کے مطابق، نکسل ازم جیسے مسائل سے نمٹنے کے
لیے پہلے سے موجود ایجنسیاں جیسے این آئی اے کافی ہیں، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ
خوراک کی کمی جیسے سنگین سماجی مسائل پر توجہ دے۔
سپریا سولے نے مراٹھی زبان کے فروغ اور
تحفظ کے حوالے سے ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے درمیان حالیہ اتحاد کو سراہتے
ہوئے کہا کہ ان کی مفاہمت نہ صرف مراٹھی عوام کی خوشی کا باعث ہے بلکہ مہاراشٹر کے
ثقافتی رشتے کو مضبوط کرنے کا اشارہ بھی ہے۔ یہ اتحاد ہندی کے خلاف پیدا ہونے والے
سیاسی دباؤ کے پس منظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سولے نے این ایس سی آئی ڈوم ورلی
میں منعقدہ اس ریلی میں شرکت کی جس میں یہ دونوں لیڈر 20 برس بعد ایک ساتھ نظر
آئے۔
ہندوستھان سماچار
——————–
ہندوستان سماچار / خان این اے
