نئی دہلی، 5 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کا منگل کو یہاں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 79 برس تھی اور وہ 11 مئی سے اسپتال میں داخل تھے جہاں ان کی حالت تشویشناک تھی۔ ملک کے جموں و کشمیر کا گورنر رہنے کے دوران ہی مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا تھا۔ یہ محض اتفاق ہی ہے کہ انہوں نے 5 اگست کو آخری سانس لی۔
ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال نے ایک بیان میں کہا کہ ستیہ پال ملک نے دوپہر 1.12 بجے آخری سانس لی۔انہیں پیشاب کی نالی میں شدید انفیکشن (یورینری ٹریکٹ انفیکشن)اور گردے فیل ہونے کی پیچیدگیوں کی وجہ سے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ طویل عرصے سے دیگر صحت کے مسائل میں مبتلا تھے جن میں ذیابیطس، گردے کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور آبسٹرکٹیو سلیپ اینیمیا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔
انہیں 11 مئی کو رات 12:04 بجے پیشاب کی نالی کے شدید انفیکشن کے ساتھ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور اس کے بعد پیشاب کی نالی کے انفیکشن، اسپتال سے حاصل شدہ نمونیا اور کئی ا عضاءکی خرابی کی وجہ سے سیپٹک شاک ہو گیا۔ انہیں کرونک کڈنی بیماری کی وجہ سے ڈیسیمنیٹڈانٹراواسکولر کوایگولیشن اورگردے کو شدید نقصان بھی پہنچا، جس کے لیے انہیں کئی ہیمو ڈائلیسس سیشنز کی ضرورت پڑی۔
ستیہ پال ملک اکتوبر 2017 سے اگست 2018 تک بہار کے گورنر رہے۔ وہ 21 مارچ سے 28 مئی 2018 تک اڈیشہ کے قائم مقام گورنر بھی رہے۔ انہوں نے اگست 2018 سے اکتوبر 2019 تک غیر منقسم جموں و کشمیر کے آخری گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی مدت کار کے دوران مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کوآرٹیکل 370اور 35اے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ آج اس فیصلے کی چھٹی برسی ہے اور اسی دن ستیہ پال ملک نے آخری سانس لی۔
ستیہ پال ملک کو جموں و کشمیر کے بعد گوا کا گورنر بنایا گیا تھا۔ وہ میگھالیہ کے گورنر بھی رہے۔ انہوں نے 2019 کے پلوامہ حملے میں سیکورٹی لیپس اور کیرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں مبینہ بدعنوانی کے مسائل پر کھل کر بات کی تھی جس کی وجہ سے وہ تنازعات میں بھی گھرے تھے۔ بعد میں وہ بی جے پی کے بڑے ناقد بن گئے۔
ستیہ پال ملک 24 جولائی 1946 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق اتر پردیش کے باغپت ضلع کے ہسودا گاو¿ں سے تھا۔ وہ ایک جاٹ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میرٹھ کالج سے بیچلر آف سائنس اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1968-69 میں میرٹھ کالج کے طلبہ یونین کے صدر کے طور پر کیا۔ وہ 1974-77 تک اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے اور 1980 سے 1989 تک راجیہ سبھا میں اتر پردیش کی نمائندگی کی۔ 1989 سے 1991 تک انہوں نے جنتا دل کے رکن کے طور پر نویں لوک سبھا میں علی گڑھ کی نمائندگی کی۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد
