سویڈن نیٹو کا 32 واں رکن ملک بنا، بائیڈن نے دی مبارکباد
اسٹاک ہوم، 8 مارچ سویڈن کو بالآخر کل (جمعرات کو) نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) میں شامل کر لیا گیا۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ ’’یہ ایک تاریخی دن ہے۔ سویڈن کو اب نیٹو میں صحیح جگہ ملے گی اور نیٹو کی پالیسیوں اور فیصلوں میں اس کے خیالات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ‘200 سال سے زائد عرصے تک غیر منسلک رہنے کے بعد اب سویڈن کو بھی آرٹیکل 5 کے تحت تحفظ کی ضمانت ملے گی‘۔
اس کا اعلان گزشتہ روز سویڈش حکومت کے ایک خصوصی اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اب برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹر کے باہر سویڈن کا جھنڈا بھی نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پوسٹ پر اس اعلان کا خیرمقدم کیا اور اس کے لیے سویڈن کو مبارکباد دی۔ سویڈش اخبار دی لوکل سویڈن کے مطابق کرسٹرسن نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ملاقات میں سویڈن کے الحاق کی دستاویز حوالے کی۔
اسی کے ساتھ 200 سال سے زائد غیر جانبداری اور عدم صف بندی کا خاتمہ ہوا۔ منتقلی سویڈش وقت کے مطابق شام 5:25 بجے ہوئی۔ سویڈن نیٹو کا 32 واں رکن ملک ہوگا۔ اس موقع پر بلنکن نے کہا، ’’انتظار کرنے والوں کو اچھی چیزیں ملتی ہیں، اس سے بہتر کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔‘‘ انہوں نے اسے ’’ایک تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا۔
قابل ذکر ہے کہ نیٹو کا قیام 1949 میں ہوا تھا۔ اس وقت اس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت 12 ممالک تھے۔ اب سویڈن سمیت رکن ممالک کی تعداد 32 ہو گئی ہے۔ شروع میں نیٹو کا مقصد سوویت یونین کی توسیع کو روکنا تھا۔ سب نے تہیہ کر رکھا تھا کہ نیٹو کے کسی بھی رکن پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
نیٹو کے پاس کوئی فوج نہیں ہے لیکن تمام رکن ممالک کسی بحران میں متحد ہو کر کام کر سکتے ہیں۔ نیٹو ممالک مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرتے ہیں۔ نیٹو کے بڑے رکن ممالک میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، ترکیہ، البانیہ، بلغاریہ، ہنگری، پولینڈ، جمہوریہ چیک، سلوواکیہ، رومانیہ، لتھوانیا، لاٹویا، ایسٹونیا اور فن لینڈ ہیں۔
