بنگلہ دیش کے معروف ہندو سنیاسی چنمے کرشنا داس برہمچاری نے حال ہی میں ڈھاکہ میں ہندووں کے ایک بڑے اجتماع میں حکومت کو سخت انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقلیتی برادریوں پر جبر جاری رہا تو بنگلہ دیش کا مستقبل خطرے میں ہے۔ ان کے بیان نے ملک میں ہندو برادری کے مسائل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
BulletsIn
- چنمے کرشنا داس برہمچاری کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو افغانستان یا شام کی طرح بنایا جا سکتا ہے اگر اقلیتی برادریوں پر جبر جاری رہا۔
- انہوں نے جمعہ کو لال دیگھی میدان میں ہندووں کے ایک بڑے اجتماع میں یہ بیان دیا۔
- ان کا مطالبہ ہے کہ اقلیتی برادریوں پر جبر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
- برہمچاری نے کہا کہ ہندووں پر حملے بند ہونے چاہئیں اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
- وہ بنگلہ دیش سناتن جاگورون مونچو کے ترجمان اور پنڈریک دھام کے سربراہ ہیں۔
- 5 اگست کو عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہندو مندروں اور کاروباری اداروں پر حملوں کے خلاف ہندو برادری دو ماہ سے احتجاج کر رہی ہے۔
- چنمے نے کہا کہ ہندووں پر جتنے مظالم ہوں گے، وہ اتنے ہی متحد ہوں گے۔
- ہندو برادری نے آٹھ نکاتی مطالبات کے لئے ایک 19 رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔
- چنمے نے اعلان کیا کہ ہندو ہر منڈل میں ریلیاں نکالیں گے اور ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔
- دیگر مقررین نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندووں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
