ماسکو، 06 نومبر ۔ یوکرین میں جاری جنگ پر روس اور مغرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والی نئی جوہری آبدوز امپریٹر الیگزینڈر 3 سے روسی فوج نے اتوار کے روز ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ۔
گزشتہ ہفتے ہی صدر ولادیمیر پوتن نے روس کی جانب سے عالمی جوہری تجربات پر پابندی کی توثیق کو منسوخ کرنے والے بل پر دستخط کیے تھے۔ ماسکو نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ برابری قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ روسی وزارت دفاع نے کہا کہ امپریٹر الیگزینڈر-3 نے روس کے شمالی بحیرہ ابیض میں زیر آب بلاوا میزائل داغا۔ اس نے کامچٹکا کے دور افتادہ مشرقی علاقے میں واقع ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ بیان میں اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ یہ ٹیسٹ کب کیا گیا تھا۔
امپریٹر الیگزینڈر 3 بوریئی کلاس کی نئی جوہری آبدوزوں میں سے ایک ہے، جو 16 بلاوا میزائل لے جا سکتی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق بیلسٹک میزائل کا تجربہ آخری تجربہ تھا جس کے بعد اسے بحری بیڑے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جانا ہے۔ وزارت دفاع نے کہا کہ روسی بحریہ کے پاس اس وقت بوریئی کلاس کی تین آبدوزیں موجود ہیں۔ ایک اور ٹیسٹنگ مکملہو رہا ہے اور تین مزید زیر تعمیر ہیں۔
