کاٹھمنڈو ، 17 فروری ۔
نیپالی کانگریس کے اندر ملک کو دوبارہ ہندو راشٹر بنانے کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔ نیپالی کانگریس کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں 26 ممبران پارلیمنٹ اور پارٹی کے دیگر لیڈروں نے اس معاملے کو سختی سے اٹھایا۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اگلے ہفتے شروع ہونے والے پارٹی کی جنرل کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ حاوی ہو جائے گا۔نیپالی کانگریس کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران دو درجن سے زائد عہدیداروں نے ملک کو دوبارہ ہندوراشٹر قرار دینے کے مطالبے کو پارٹی کا اہم مسئلہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی عہدیداروں نے دیگر عہدیداروں کے ساتھ اس سلسلے میں دستخطی مہم بھی چلائی۔ پارٹی لیڈر شنکر بھنڈاری کی قیادت میں 26 ممبران پارلیمنٹ اور سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبران نے یہ مسئلہ قومی صدر شیربہادر دیوبا کے سامنے اٹھایا اور اسے پارٹی جنرل کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شنکر بھنڈاری نے کہا کہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے پارٹی کو اس مسئلہ کو بڑا مسئلہ بنانا چاہئے۔ بھنڈاری نے کہا کہ پارٹی صدر دیوبا نے فی الحال اس موضوع پر کچھ نہیں کہا ہے لیکن انہوں نے اس سے متعلق تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اس سے یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ یہ موضوع جنرل کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں ضرور شامل ہوگا۔ہندو راشٹر مہم کے حق میں نظر آنے والی سابق ڈپٹی اسپیکر اور کانگریس ایم پی پشپا بھوشال نے کہا کہ چند ماہ قبل پارٹی صدر نے خود ایک عوامی پروگرام میں کہا تھا کہ پارٹی ہندو راشٹر کے مسئلہ پر غور کرسکتی ہے۔ بھوشال کا دعویٰ ہے کہ اگلے ہفتے شروع ہونے والی پارٹی کی جنرل کمیٹی میٹنگ میں اس معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ نیپالی کانگریس ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ نیپالی پارلیمنٹ کے 275 رکنی ایوان نمائندگان میں پارٹی کے 88 ارکان ہیں اور 59 رکنی قومی اسمبلی میں 16 ارکان ہیں۔
