تل ابیب ، 18 اکتوبر (ہ س)۔
امریکی صدر جو بائیڈن جنگی علاقے کے غیر معمولی دورے پر آج اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پہنچ گئے۔ بائیڈن کے تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اترنے کے چند منٹ بعد، غزہ کی پٹی کے قریب کبتج کسوفم پر الارم کے سائرن بجنے لگے۔ اس کے بعد بائیڈن کی حفاظتی حصار بڑھا دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں اب تک 4300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کے العہلی عرب ہسپتال پر منگل کی شب ہونے والے حملے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بائیڈن کا یہ دورہ اسرائیل کے تئیں ان کی حمایت اور یکجہتی کو ظاہر کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو پناہ دینے والے اسپتال میں ہونے والے تباہ کن دھماکے نے غزہ کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے ، تنازعہ کو مزید بڑھنے سے روکنے اور امریکہ کی حفاظت کے لیے سفارتی کوششوں کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔ اردن کے شہر عمان میں امریکی صدر بائیڈن کے ساتھ عرب رہنماو¿ں کی سربراہی ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔صدر بائیڈن کی تل ابیب آمد پر وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماو¿ں نے گرمجوشی سے ملاقات کی اور صدر بائیڈن کو گلے لگایا۔ اس کے بعد امریکی صدر کا قافلہ روانہ ہوگیا۔اطلاعات کے مطابق یہ امر اہم ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے صدر بائیڈن کے دورہ اسرائیل کے لیے میدان تیار کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا ہے۔ بلنکن نے پیر کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی ملاقات کی۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان
