دمشق میں سفارت خانے پر حملے پر گرجا ایران، اسرائیل نے لڑاکا دستوں اور فضائیہ کو کیا ہائی الرٹ
تہران، 6 اپریل ۔ دمشق میں اپنے سفارت خانے پر حملے کے بعد ایران نے غصے کا اظہار کیا ہے جب کہ ایران کی ایلیٹ فورس ریوولیوشنری کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے اسرائیل سے دمشق حملے کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہی نہیں، اس واقعہ کو لے کر پورے ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس حملے میں ریوولیوشنری کے دو سینئر جنرلوں سمیت سات اہلکار مارے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار شامی شہری اور لبنانی حزب اللہ کا ایک جنگجو بھی شامل ہے۔
ان اہلکاروں کے جنازے میں جمعہ کو ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے جب کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک کئی دہائیوں سے ایران کی جانب سے پراکسی جنگ کا سامنا کر رہا ہے لیکن اب وہ کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کو برداشت نہیں کرے گا، اس لیے ایران تحمل سے کام لے۔
ایرانی سفارت خانے پر حملے کے خلاف دارالحکومت تہران سمیت دیگر شہروں میں جلوس نکالے گئے اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ تہران یونیورسٹی میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے کمانڈر سلامی نے کہا کہ کسی بھی حملے کا جواب دیئے بغیر نہیں رہا جائے گا۔ اللہ کے فضل سے اسرائیل میں یہودیوں کا اقتدار بہت جلد ختم ہو جائے گا۔
جنرل سلامی نے کہا کہ امریکہ مسلم اکثریتی ممالک سے نفرت کرتا ہے، یہ حالیہ مہینوں میں پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔ امریکہ کی حمایت سے اسرائیل غزہ میں نسل کشی اور ہمسایہ ممالک پر حملے کر رہا ہے۔ اس سے قبل حملے میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے دو جرنیلوں اور پانچ اہلکاروں کے جسد خاکی کو پورے احترام کے ساتھ فوجی ٹرک میں قبرستان لے جایا گیا۔
ایرانی سفارت خانے میں مقتول اہلکاروں کی نماز جنازہ اور احتجاج اتفاق سے اسی دن ہوا جب ایران فلسطینیوں کی حمایت میں یروشلم ڈے مناتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں جمعہ کی اہمیت اور ایران میں بھڑکتے جذبات کے پیش نظر اسرائیل ان دنوں سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے لڑاکا دستوں اور فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل نے حملہ کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو گمراہ کرنے کے لیے جی پی ایس سسٹم کو بھی خراب کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حماس، حزب اللہ اور حوثی باغی پہلے ہی اسرائیل کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
