واشنگٹن ۔
وائٹ ہاوس نے پیر کے روز حماس کو زور دے کر کہا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے لیے میز پر سامنے آنے والی شرائط سے اتفاق کر لے تاکہ قاہرہ میں جاری مذاکرات معاہدے پر منتج ہو سکے۔وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی کے لیے ترجمان جان کربی نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا ‘امریکہ اب بھی پرامید ہے کہ 10 مارچ سے شروع ہونے والے رمضان سے پہلے پہلے اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ ہوجائے گا۔ جس کے نتیجے میں اسرائیلی یرغمالی رہا ہوں گے اور عارضی سیز فائر ہو سکے گا۔’
جان کربی نے کہا ‘جنگ بندی کے لیے پیش کردہ تجاویز پر ابھی حماس کی طرف سے اتفاق کیا جانا باقی ہے۔’ ان کے بقول اس جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں چھ ہفتوں کے لیے جنگ روکی جائے گی۔ اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی اسیران کا رہائی تبادلہ ہوگا اور امدادی کارروائیوں کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ‘امریکہ آئندہ دنوں بھی ہوائی جہاز کے ذریعے غزہ میں امدادی سامان کے گرانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ مزید یہ کہ بحریہ کے ذریعے بھی اس آپشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔’ جان کربی کے مطابق ‘ٹرکوں کے ذریعے غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل کے لیے رفتار سست ہے۔ اس کی وجہ اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی مخالفت بن رہی ہے کہ وہ اس امداد کی ترسیل کے حق میں نہیں ہیں۔’جان کربی نے اس موقع پر اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مزید کچھ کرنا پڑے گا۔
