جارڈن کے خارجہ وزیر ایمن صفدی نے اسرائیل کی ایرانی حملوں کے خلاف واپسی کے ممکنہ نتائج پر شدید فکرمندی ظاہر کی۔ انہوں نے چیتانا دی کہ ایسی اعمال کی انتہائی بڑی ریجنل جنگ کا ابتداء ہوسکتا ہے جس کے دور رس اثرات استحکام اور سلامتی کے لیے ہوںگے۔
صفدی نے مزید ایسکیلیشن سے بچنے کی فوری ضرورت کی تاکید کی اور جارڈن کی کوششوں کی روشنی میں اہم حکومتی جانب کو اعمال کرنے کی خلاف ورزی کی۔ جارڈن، امریکہ کا مضبوط رفیق، نے ایران کے زیرِ اسرائیل موشکوں اور ڈرونوں کی بڑی تعداد کو روکا، جن کی حمایت امریکی ہوائی دفاع اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے کی گئی۔
وزیر خارجہ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی، ایران نے اشارہ کیا کہ وہ مزید ایسکیلیشن کریںگے نہیں مگر اگر جلایا گیا تو۔ جہاں ایرانی پراکسی فورسیز کی سرپرستی ہوتی ہے، جیسے سوریہ اور عراق، وہاں جارڈن ایک خطرناک صورتحال میں پایا جاتا ہے۔ صفدی نے اس بات پر تاکید کی کہ جارڈن اپنی خود سوارجی کی حفاظت اور ممکنہ بیرونی جنگوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے ایران کے ساتھ مقابلہ کو دوسرے علاقائی مسائل، مثلاً غزہ کی صورتحال، سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کی تحریکوں کی خلاف ورزی کی۔ صفدی نے غربی شاکرتوں کو ایران کے ساتھ جنگ میں لانے والی کسی بھی کارروائیوں کے خلاف اور علاقائی تنازعات کو کم کرنے کی ضرورت کو زور دیا۔
