واشنگٹن۔
امریکی صدرجو بائیڈن کی اسرائیل کے بارے میں پالیسی کے خلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹروں میں بڑھتی ہوئی تنقید، غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حصول میں ناکامی، شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافےاور امریکہ کی اسرائیل کی اندھی حمایت پر عرب امریکیوں بالخصوص فلسطینیوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔اسی بڑھتی تنقید کو سامنے رکھتے ہوئے امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے صدر جوبائیڈن کو اس غصے کے سیاسی خطرے پر خبردار کیا ہے۔غزہ کی جنگ سے واقف چار افراد نے تصدیق کی کہ امریکی نائب صدر نے سرکاری ملاقاتوں کے دوران انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں کی شدت کو کم کرنے کے لیے کام کرے۔’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس میں ملاقاتوں کے دوران انتظامیہ نے فلسطینی امریکیوں کے غصے کو کم کرنے کے لیے کام کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے بائیڈن اور دیگر اعلیٰ حکام کو غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں پر مزید ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی بھی ترغیب دی۔سوموارکو اسرائیلی جنگی کابینہ کے ایک رکن اور بینجمن نیتن یاہو کے اہم مخالف بینی گینٹز کے ساتھ وائٹ ہاوس میں ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر نے غزہ میں شہریوں کو درپیش صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
قبل ازیں اتوار کو امریکی نائب صدر نےغزہ کی موجودہ بحرانی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی اور شہریوں کو امداد کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ہیرس کے بیانات بھی ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بائیڈن کو انتخابی سال میں اسرائیل کے لیے ان کی ثابت قدم حمایت اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے بہت زیادہ دباو کا سامنا ہے۔قابل ذکرہے کہ سینٹرسٹ اپوزیشن لیڈر اور سابق فوجی کمانڈر گینٹزکے ساتھ امریکی نائب صدر کی ملاقات نے وائٹ ہاو¿س کی بڑھتی ہوئی مایوسی کو اجاگر کیا۔ نیتن یاھو کی قیادت میں دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت غزہ میں جنگ کو آگے بڑھانے پر مصر ہے جب کہ امریکا اسرائیل کے اس جنگی جنون سے مایوس دکھائی دیتا ہے۔
