اسلام آباد کے ڈی-چوک میں گزشتہ تین دنوں سے جاری پی ٹی آئی کے مظاہروں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ احتجاج کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں چھ افراد کی ہلاکت ہوئی۔ پی ٹی آئی کی قیادت بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ گنڈا پور مظاہرین کے ساتھ فرار ہو گئے، جس کے بعد حکومت نے امن قائم کر لیا۔ اس دوران پی ٹی آئی نے احتجاج کو عارضی طور پر ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
BulletsIn
- اسلام آباد کے ڈی-چوک میں تین دنوں سے جاری احتجاج کا اختتام ہوا۔
- پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف جھڑپوں میں چھ افراد کی جانیں گئیں، جن میں پولیس اور رینجرز اہلکار بھی شامل ہیں۔
- بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور مظاہرین سے فرار ہو گئے۔
- پی ٹی آئی کے 450 حامیوں کو گرفتار کیا گیا۔
- فوج اور پولیس نے ڈی-چوک کے ارد گرد کے علاقوں کو خالی کروا لیا۔
- جھڑپوں کے دوران آنسو گیس اور گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔
- وفاقی حکومت نے بشریٰ بی بی کو افرا تفری پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔
- پی ٹی آئی نے احتجاج کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔
- بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے ان کے اغوا کا دعویٰ کیا۔
- پی ٹی آئی نے کہا کہ احتجاج کی آئندہ حکمت عملی عمران خان کی رہنمائی میں مرتب کی جائے گی۔
