بین اسٹوکس، انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان، نے بائیں ہیمسٹرنگ کی سرجری کے بعد خود کو “بائیونک مین” قرار دیا ہے۔ اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف دسمبر میں ٹیسٹ میچ کے دوران گیندبازی کرتے ہوئے دوبارہ انجری کا سامنا کیا۔ یہ انجری ان کی ہیمسٹرنگ کے پہلے سے موجود مسئلے کا تسلسل تھی، جو اگست میں ایک میچ کے دوران پیش آئی تھی۔ اسٹوکس نے انسٹاگرام پر سرجری کے بعد اپنی تصویر شیئر کی اور اپنی صحتیابی کے عمل کو بیان کیا۔ آئندہ ٹیسٹ میچز کے لیے ان کی عدم موجودگی اور دیگر کرکٹ اسائنمنٹس سے دستبرداری ان کی جسمانی صحت کے تحفظ کے لیے کیے گئے اہم فیصلے ہیں۔
BulletsIn
- بین اسٹوکس کی سرجری: بائیں ہیمسٹرنگ کی سرجری کے بعد اسٹوکس نے خود کو “بائیونک مین” کہا۔
- پہلی انجری: اگست میں ہیمسٹرنگ رپچر ہونے کے بعد وہ دو ماہ تک ایکشن سے باہر رہے۔
- نیوزی لینڈ کے خلاف دوبارہ انجری: دسمبر میں ٹیسٹ میچ کے دوران گیندبازی کرتے ہوئے مسئلہ بڑھ گیا۔
- سری لنکا سیریز سے غیرحاضری: ابتدائی انجری کے باعث انگلینڈ کی ہوم سیریز میں شرکت نہ کر سکے۔
- انسٹاگرام پوسٹ: سرجری کے بعد اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی صحتیابی کا عمل بیان کیا۔
- فٹنس کے چیلنجز: پاکستان اور نیوزی لینڈ میں ٹیم کے ساتھ کھیلنے کی جلدی نے ان کی جسمانی حالت پر منفی اثر ڈالا۔
- چیمپئنز ٹرافی سے دستبرداری: آئندہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت نہیں کریں گے۔
- ایس اے 20 لیگ سے معاہدہ ترک: ایم آئی کیپ ٹاؤن کے ساتھ 800,000 پاؤنڈ کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔
- انجری کے دوران کارکردگی: انجری سے پہلے ٹیسٹ میچز میں 36.2 اوورز پھینکے، جو ان کے لیے اہم کارکردگی تھی۔
- مستقبل کے منصوبے: انگلینڈ کے آئندہ ٹیسٹ میچز تک مکمل صحتیابی پر توجہ مرکوز ہے۔
