اسلام آبادچس ۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے شانگلہ کے قصبے بشام میں منگل کو ایک بڑے خودکش حملے میں پانچ چینی انجینئروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ مالاکنڈ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) نے اس کی تصدیق کی ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے ڈی آئی جی نے کہا کہ ایک خودکش حملہ آور نے اپنی بارود سے بھری گاڑی چینی شہریوں کو لے جانے والی کار سے ٹکرا دی۔ حملے میں شدید زخمی ہونے والے پاکستانی کار ڈرائیور کو مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ چینی شہری انجینئر تھے، جو اسلام آباد سے کوہستان جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کا دورہ کیا اور سفیر کو حملے اور چینی انجینئروں کی ہلاکت پر بریفنگ دی۔ انہوں نے حملے کی جگہ پر جاری امدادی کاروائی کی تفصیلات بھی بتائیں۔ نقوی نے حملے میں ملوث عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا، پوری پاکستانی قوم غم کی اس گھڑی میں اپنے چینی بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین برادرانہ تعلقات پر حملہ کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو طرفہ تعلقات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
صدر آصف علی زرداری نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے صدر کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر زرداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان مخالف قوتیں پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں پر حملہ پاک چین دوستی کو خراب کرنے کی سازش ہے۔
دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردوں کی کارروائی اور چینی شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ پی پی پی کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلاول نے حملے کے چینی متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا اور پاکستانی حکام سے حملے کے ذمہ داروں اور ان کے معاونین کو بے نقاب کرنے اور سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
