غزہ ۔
فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے پیر کے روز دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے میں اپنے پہلے سے چلے آرہے موقف پر آج بھی قائم ہے کہ غزہ سے تمام اسرائیلی افواج کا انخلا اور مسلسل بمباری کر کے بے گھر کیے گئے لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں میں واپس جانے کا حق دیا جائے۔حماس نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرنے والے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی ایک حقیقی تبادلے کی صورت ہی ہونی چاہئے جس کے نتیجے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی ممکن بنائی جائے۔ تاہم اس بارے میں فوری اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
حماس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے اپنے شروع سے چلے آرہے موقف کو ایک مرتبہ پھر ثالث ملکوں اور مذاکرات کاروں کے توسط سے رواں ماہ کے وسط میں پیش کر دیا تھا۔ تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ رائٹرز ‘ کے مطابق اس تجویز میں ایک سو فلسطینی قیدی ایسے ہیں جنہیں اسرائیل نے عمر قید کی سزا سنا رکھی ہے۔
واضح رہے پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی قرارداد کی منظوری اور اسے امریکہ کی طرف سے ویٹو نہ کیے جانے کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے درمیان رخنہ پیدا ہوا ہے۔ جنگ بندی کی منظور کی گئی قرارداد کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 14 نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ گویا قرار داد کو منظور ہونے دیا۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان ہیں۔دوسری جانب قطر اور مصر کی طرف سے کوشش جاری ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا جلد سے جلد راستہ ہموار ہو جائے۔ تاکہ غزہ میں جاری انسانی بحران مزید گہرا نہ ہو۔ حماس کی کوشش ہے کہ بیمار اور لاغر اسرائیلی یرغمالیوں کو رہائی دے دے۔ اس کے بدلے میں 700 سے 1000 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل اپنی جیلوں سے رہا کرے۔دیر سے سامنے آنے والے نیتن یاہو کے رد عمل کے مطابق حماس کی تجویز غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ اس لئے حماس کے خاتمے لئے اسرائیل اپنے حملے جاری رکھے گا۔
