
نیپال میں زلزلے سے بھاری تباہی، ملبے سے اب تک 129 لاشیں نکالی گئیں، 300 کو بچایا گیا
۔ وزیر اعظم پرچنڈ متاثرہ علاقے کے لیے روانہ، سب سے زیادہ نقصان جاجرکوٹ ضلع میں
کٹھمنڈو، 4 نومبر (ہ س)۔ بار بار زلزلے کے سانحات کی زد میں رہنے والا نیپال جمعہ کی رات ایک بار پھر لرز اٹھا۔ اس بار اس کا مرکز جاجرکوٹ ضلع تھا۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں سے ہزاروں گھر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ صبح ہوتے ہی راحت اور بچاؤ کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے۔ اب تک 129 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ سب سے زیادہ تباہی ضلع جاجرکوٹ میں ہوئی ہے۔ یہاں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 92 ہو گئی ہے۔ ملبے کے ڈھیر میں زندگی تلاش کی جا رہی ہے۔ ان کی لاشیں دیکھ کر لوگوں کے دل پھٹ رہے ہیں۔ رکم مغربی ضلع میں ہلاکتوں کی تعداد 37 تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر اعظم پشپ کمل دہل پرچنڈ امدادی سامان اور ادویات لے کر ہیلی کاپٹر کے ساتھ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ آرمی میڈیکل ٹیم بھی ان کے ساتھ ہے۔ قریبی اضلاع سے میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 300 سے زائد افراد کو ملبے سے بحفاظت نکالا گیا ہے۔
زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں میں جگہ کم ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ زخمیوں کے علاج کے لیے مناسب سہولیات کا نہ ہونا ہے۔ شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرکھیت اور کھٹمنڈو لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
