بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد بھی بدامنی کا سلسلہ تھم نہیں سکا، جس کی مثال دارالحکومت ڈھاکہ میں اتوار کے روز ہونے والے پرتشدد مظاہروں سے ملتی ہے۔ ان مظاہروں میں انصار سیکیورٹی ایجنسی کے کارکنان اور عبوری حکومت میں شامل امتیازی سلوک مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید بگڑ گئی۔ یہ ایجنسی حسینہ کی حامی سمجھی جاتی ہے اور اس کے مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج نے شدت اختیار کی۔
BulletsIn
- شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے باوجود بنگلہ دیش میں بدامنی جاری ہے۔
- اتوار کے روز ڈھاکہ میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔
- انصار سیکیورٹی ایجنسی کے کارکنان اور طلبہ تحریک کے رہنماؤں کے درمیان تصادم ہوا۔
- انصار ایجنسی حسینہ کی حامی سمجھی جاتی ہے۔
- احتجاج کرنے والے انصار ایجنسی کے کارکنان نے سیکرٹریٹ کے اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔
- تصادم کے دوران کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے۔
- زخمیوں میں طلبہ، انصار کے ارکان، راہگیر اور صحافی شامل تھے۔
- حالات قابو سے باہر ہونے پر فوج رات 10 بجے کے قریب پہنچی۔
- پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
- سیکرٹریٹ کے ارد گرد کا علاقہ ہزاروں طلبہ کے کنٹرول میں آگیا۔
