نئی دہلی ، 03 نومبر (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کے خلاف غیر متناسب اثاثہ جات کیس کی سماعت آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے باہر منتقل کرنے کے مطالبہ پر سی بی آئی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس سنجیو کھنہ کی صدارت والی بنچ نے وائی ایس آر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رگھو رام کرشن راجو کی طرف سے دائر درخواست پر جگن موہن ریڈی کو بھی نوٹس جاری کیا۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ جگن موہن ریڈی وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ بھی ہیں۔ ریاستی مشینری چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کے حق میں کام کر رہی ہے اور اس کی وجہ سے کیس کی سماعت میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے پچھلے دس سالوں میں فرد جرم بھی عائد نہیں کی۔ عرضی میں سی بی آئی کے رویہ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ میں جگن موہن ریڈی کی ذاتی حاضری سے مستقل استثنیٰ کا حکم دیا تھا ، لیکن اس حکم کو سی بی آئی نے چیلنج نہیں کیا تھا۔ اس سے صاف ہے کہ آندھرا پردیش حکومتی مشینری اور سی بی آئی ریڈی کی مدد کر رہی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقدمے کو آندھرا پردیش اور تلنگانہ سے باہر بالخصوص دہلی منتقل کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار/محمد
