یروشلم، 11 نومبر (ہ س)۔ غزہ کی پٹی میں گزشتہ ماہ 7 اکتوبر سے جاری جنگ کے درمیان خوراک کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے لوگوں میں لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ شہریوں کو ایک گیلن پانی کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہی منظر اقوام متحدہ کے بیشتر انسانی امدادی مراکز کے باہر قطاروں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی شہر دیر البلاح میں پانچ بچوں کی ماں سوزان واحدی کو اقوام متحدہ کے ایک امدادی کارکن کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ میرے بچے رو رہے ہیں۔ وہ بھوکے اور تھکے ہوئے ہیں۔ پانی نہیں ہے، اس لیے باتھ روم استعمال نہیں کر سکتے۔
قابل ذکر ہے کہ غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں اب تک 10 ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ شمالی غزہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد کو اب جنوبی غزہ میں خوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔
ہندوستھان سماچار//سلام
