غزہ/تل ابیب، 06 دسمبر (ہ س)۔ اسرائیل اور فلسطینی دہشت گرد تنظیم حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں جاری جنگ آج (بدھ کو) 61ویں روز میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے جنوبی غزہ کے سب سے بڑے شہر خان یونس کو گھیرے میں لے کر تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی ترجیح خان یونس میں بنائی گئی سرنگوں میں چھپے حماس کے کمانڈروں کو نشانہ بنانا ہے۔ رات کے دوران کم از کم چار کمانڈر اور متعدد کارکن مارے گئے۔
معروف اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز اسکولوں اور ہسپتالوں میں بنائی گئی سرنگوں میں چھپے دہشت گردوں کو تلاش کر کے ہلاک کر رہی ہیں۔ راکٹ، مارٹر اور میزائل داغے جا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل شمالی مغربی کنارے میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ساتھ جھڑپوں میں دو فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کو غیر فوجی بنانا بہت ضروری ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) پر اعتماد ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔
اخبار کے مطابق آئی ڈی ایف نے حملے میں لبنانی فوجی کی ہلاکت پر معذرت کی ہے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ فوجی حزب اللہ کی پوسٹ کو درپیش حقیقی خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔ لبنانی فوج نشانے پر نہیں تھی۔ آئی ڈی ایف کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے کہا کہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس کو مکمل طور پر گھیر لیا گیا ہے۔ فورسز نے یہاں شمالی غزہ کی پٹی میں حماس بریگیڈ کے کئی کمانڈروں اور کارندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ لوگ ہسپتال کے قریب واقع ایک سرنگ میں چھپے ہوئے تھے۔
آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ جنوبی غزہ کے لیے انسانی امداد کی سست روی کا ذمہ دار اقوام متحدہ ہے۔ آئی ڈی ایف بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہ کر لڑ رہا ہے۔ اس لڑائی میں حماس کی سب سے بڑی غزہ بریگیڈ کے چار بٹالین کمانڈر مارے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
