اسرائیلی فوج کی درخواست پر گوگل نے بند کیا ’لائیو ٹریفک‘ فیچر
۔ جنوبی غزہ میں فضائی حملے میں 28 فلسطینی شہید
یروشلم، 20 دسمبر (ہ س)۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے درمیان گوگل نے اسرائیلی فوج کی درخواست پر لائیو ٹریفک فیچر کو بند کردیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو گوگل نیویگیشن ایپ استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گوگل نے اسرائیل میں لائیو ٹریفک کنڈیشن فیچر کو بند کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ گوگل کی نیوی گیشن ایپس جیسے کہ گوگل میپس کے ذریعے اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت اور کارروائیوں کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ جنگ بندی کے مطالبات کے درمیان غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے منگل کے روز جنوبی غزہ میں فضائی حملے کیے جس میں کم از کم 28 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی شمالی غزہ میں کام کرنے والے آخری اسپتالوں میں سے ایک پر بھی حملہ کیا گیا۔ دوسری جانب حماس کی جانب سے یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں حملے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سے بین الاقوامی تجارت پر مزید اثر پڑنے کا امکان ہے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے منگل کو کہا کہ اگر حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کو واپس لانے کے لیے جنگ بندی کی ضرورت ہے تو ہم ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ اسرائیلی اور قطر کے حکام سے بات چیت کے لیے پیر کو یورپ پہنچے تھے۔ غزہ میں ایک نئی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا سوال اس وقت اٹھایا گیا ہے جب امریکی وزیر دفاع لائیڈ نے حماس کے خلاف بڑی جنگی کارروائیوں کو کم کرنے کے لیے اسرائیلی فوجی رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔
اسرائیل کے کچھ اتحادیوں فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے بھی جنگ بندی کے لیے دباو بڑھا دیا ہے۔ جبکہ امریکہ شہریوں کی ہلاکت پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہا ہے اور اسرائیل سے مناسب کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کہہ رہے ہیں کہ جنگ اس وقت تک نہیں رک سکتی جب تک حماس باقی 129 یرغمالیوں کو رہا نہیں کر دیتا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
