ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ جیسی صورتحال نے نہ صرف دونوں ممالک کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات پڑوسی ملک نیپال پر بھی پڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ نیپال کی پارلیمنٹ میں کئی جماعتوں کے ارکان نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں خصوصی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیپال کی جغرافیائی حیثیت اور بھارت پر انحصار کے باعث کسی بھی جنگی صورتحال کا اثر اس کے معیشتی، سیکیورٹی اور روزمرہ زندگی کے نظام پر پڑ سکتا ہے۔
BulletsIn
-
نیپال کے ارکان پارلیمنٹ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پر پارلیمنٹ میں خصوصی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
-
ارکان کا کہنا ہے کہ جنگ کا نیپال پر براہ راست اثر پڑے گا، خاص طور پر سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
-
راشٹریہ سواتنتر پارٹی کے رکن ششیر کھنال نے کہا کہ موجودہ صورتحال نیپال کے لیے چیلنج بن سکتی ہے، اس لیے حکومت کو پیشگی تیاری کرنی چاہیے۔
-
ششیر کھنال نے پارلیمنٹ میں اس موضوع پر فوری اور سنجیدہ بحث کی ضرورت پر زور دیا۔
-
متحدہ سماج وادی پارٹی کے شیر بہادر کنڑ نے ایندھن اور اشیائے خور و نوش کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔
-
کنڑ نے عوامی آگاہی اور حکومت کی تیاریاں یقینی بنانے پر زور دیا۔
-
شیر بہادر کنڑ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تیاریوں کے بارے میں پارلیمنٹ میں وضاحت دے۔
-
حکمراں جماعت کی رکن سرسوتی سبا نے بھارت کے ساتھ کھلی سرحد کا حوالہ دیتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔
-
سرسوتی سبا نے کہا کہ تین اطراف سے بھارت سے جڑے ہونے کی وجہ سے نیپال پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
-
سبا نے اولی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کروائے۔
