فلم اداکار امیتابھ بچن کو دیوالیہ اعلان کئے جانے کے وقت ان کے بیٹے ابھیشیک بچن امریکہ میں اپنا کالج چھوڑ کر بھارت آگئے تھے۔ اسی دوران ابھیشیک بچن کو جے پی دتہ نے’ ریفیوجی ‘ میں مرکزی کردار کی پیشکش کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی فلم انڈسٹری میں ابھیشیک کا سفر شروع ہوا۔ ایک انٹرویو میں ابھیشیک نے اپنے سفر کے بارے میں تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی اداکار بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے کئی ہدایت کاروں سے رابطہ کیا ، لیکن کوئی بھی ہدایت کار اور پروڈیوسر امیتابھ بچن کے بیٹے کو لانچ کرنے کی ہمت نہیں کرنا چاہتا تھا۔
ایک دن امیتابھ نے ابھیشیک کو فلم فیئر ایوارڈ تقریب میں مدعو کیا اور وہاں جے پی دتہ سے ان کا تعارف کرایا۔ بس دتہ کو اپنی فلم ’ ریفیوجی‘ کے لیے ہیرو مل گیا۔ ابھیشیک کے پاس اس فلم فیئر تقریب میں شرکت کے لیے پہننے کے لیے اچھے کپڑے بھی نہیں تھے کیونکہ پورا بچن خاندان ایک الگ مالی بحران کا سامنا کر رہا تھا۔ امیتابھ بچن کو دیوالیہ قرار دے دیا گیا تھا۔
ابھیشیک نے بتایا کہ 20 سال پہلے ’ فلم فیئر‘ میں جانے کا مطلب کافی تیاری تھی اور اس وقت آپ کو کسی نے مفت میں کپڑے نہیں دیئے تھے ، آپ کو نئے کپڑے خریدنے پڑتے تھے۔ اس تقریب میں پوری انڈسٹری شریک ہوتی تھی ، بہت سے لوگ نامزد بھی نہیں ہوتے تھے ، پھر بھی وہاں آتے تھے۔ پھر سوچ رہا تھا کہ کیا پہنوں۔ اب یہ کہنا عجیب لگتا ہے لیکن میرے پاس اس وقت بہت اچھے کپڑے نہیں تھے ، ہم اچھے کپڑے نہیں خرید سکتے تھے کیونکہ اس وقت ہم سب ایک بڑے مسئلے کا سامنا کر رہے تھے۔ ابھیشیک نے مزید کہا اس وقت میرے پاس زیادہ اچھے رسمی کپڑے نہیں تھے اور جینز اور ٹی شرٹ پہن کر اس تقریب میں جانا میرے لیے ٹھیک نہیں تھا۔ اس وقت جے پی دتہ کو فلم ’ بارڈر‘ کے لیے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ ملا تھا۔ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد جب وہ اسٹیج سے نیچے آرہے تھے تو ان کی نظر ابھیشیک پر پڑی اور ان کا روپ دیکھ کر انہوں نے انہیں اپنے دفتر میں ملنے کے لیے بلایا اور یوں ابھیشیک بچن کو پہلی فلم مل گئی۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان
