گیا، 30 نومبر(ہ س)۔بہار کے گیا ضلع میں محکمہ آبکاری نے محمد سید احمد اور شاہد انصاری کو شراب کی تسکری معاملے میں گرفتار کیا ہے ۔ شراب جھارکھنڈ کی جانب سے گیا ہوتے ہوئے پٹنہ لے جائی جا رہی تھی۔ اسی دوران محکمہ آبکاری کی ٹیم نے انہیں گرفتار کیا ہے ، ان کے پاس سے ایک لگزری گاڑی میں 48 کارٹون سے 576 عدد شراب کی بوتل برآمد ہوئی ہے۔
اطلاع کے مطابق محمد سید احمد اور شاہد انصاری جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی کے رہنے والے ہیں ،محکمہ آبکاری کے مطابق یہ کافی وقت سے شراب کی تسکری جھارکھنڈ سے لاکر بہار میں کرنے میں لگے تھے لیکن آج یہ محکمہ آبکاری کی اور پولیس ٹیم کے ہاتھ لگے ہیں۔محکمہ آبکاری کے انسپکٹر پربھات کمار نے بتایا کہ ڈوبھی تھانہ حلقہ میں واقع گاڑی چیکنگ پوائنٹ پر تیز رفتار میں ایک گاڑی آرہی تھی ، جانچ پوائنٹ پر گاڑی کو روک کر جب تلاشی لی گئی تو اس میں کئی تھیلے میں شراب برآمد ہوئی جس میں پانچ سو سے زیادہ شراب کی مہنگی بوتلیں تھیں ، پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔
ممنوعہ شراب کی غیر قانونی سپلائی اور بکری کو لیکر شراب تسکر طرح طرح کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔ضلع میں ایمبولینس میں بھی رکھ کر شراب تسکري کا معاملہ پیش آچکا ہے لیکن اس بار تسکروں نے ایک پارٹی کانگریس کا پرچم ‘ استعمال کیا ہے ، گاڑی ایکس یووی تھی جس کے آگے کانگریس کاپرچم لگا ہوا تھا۔اس پر پھول مالا بھی چڑھا ہوا تھا۔پکڑے گئے نوجوانوں نے پہلے کانگریس اقلیتی سیل جھارکھنڈ کا رہنماء اور کارکن بتارہے تھے اور گاڑی چھوڑنے کا دباؤ بنا رہے تھے۔
اس دوران وہ اپنی گاڑی کی تلاشی بھی نہیں لینے دے رہے تھے ، لیکن جب ٹیم نے سختی سے تلاشی لی تو گاڑی کی ڈکی اور درمیان کی سیٹ کے پاس کئی تھیلے رکھے ہوئے ملے ،جب ان تھیلوں کو کھول کر دیکھا گیا تو اس میں شراب کی پانچ سو سے زیادہ بوتلیں برآمد ہوئیں ۔محکمہ آبکاری کی ٹیم اور پولیس اس کی جانچ میں لگی ہے کہ کانگریس پارٹی کا پرچم انہوں نے کیوں لگایا ؟ کیا ان کا پارٹی سے تعلق ہے ، محکمہ آبکاری کی ٹیم نے ان سے پوچھ تاچھ کی ہے اور ساتھ ہی گاڑی کے مالک کی تلاش میں بھی ہے ، بہار میں شراب پر پابندی ہے لیکن اسکی سپلائی کرنے والوں اور پینے والوں کی گرفتاری ہر دن ہو جاتی ہے ۔
ہندوستھان سماچار/افضل/سلام
