پی ایم مودی، کمل ناتھ اور وجے ورگیہ کے فرضی ویڈیوز اور ڈیپ فیک معاملے کو لیکر اندور میں کیس درج
اندور، 27 نومبر (ہ س)۔ سیاست دانوں اور مشہور شخصیات کی ڈیپ فیک ویڈیوز آئے روز سامنے آرہے ہیں۔ بڑے صنعتکاروں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگاہے۔ اندور میں وزیر اعظم نریندر مودی، کمل ناتھ اور کیلاش وجے ورگیہ کے فرضی ویڈیوز سمیت ڈیپ فیک کے کئی دیگر معاملات کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کانگریس کے ایک لیڈر فحش ویڈیو کا شکا بن گئے ہیں۔ یہ لیڈر اسمبلی الیکشن لڑ چکے ہیں۔
کناڑیا تھانے کی پولیس نے وزیر اعظم نریندر مودی کا فرضی ویڈیو جاری کرنے پر ایف آئی آر درج کی ہے۔ ویڈیو کہاں بنایا گیا اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔ کرائم برانچ نے بی جے پی امیدوار کیلاش وجے ورگیہ کا فرضی ویڈیو بنانے پر ایف آئی آر درج کی ہے۔
کرائم برانچ کے ڈی سی پی نمیش اگروال کے مطابق ڈیپ فیکس کی سب سے زیادہ شکایات اسمبلی انتخابات کے دوران درج کی گئیں۔ سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کا ایک فرضی ویڈیو بھی بنا کر انٹرنیٹ پر پھیلایا گیا، جس کا تعلق لاڈلی لکشمی یوجنا کی بندش سے تھا۔ اس فرضی ویڈیو کو لے کر کرائم برانچ میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ کانگریس لیڈر راکیش یادو کی شکایت پر سائبر سیل معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔ کانگریس امیدوار کا ایک فحش ویڈیو انٹرنیٹ پر جاری کیا گیا، جس میں انہیں قابل اعتراض حالت میں دکھایا گیا ہے۔ کرائم برانچ نے اس معاملے میں بھی ایف آئی آر درج کی ہے۔
ڈیپ فیک بنانے والا گینگ ڈارک نیٹ پر سرگرم
سائبر ایس پی جتیندر سنگھ کے مطابق ڈیپ فیکس بنانے والا گینگ ڈارک نیٹ پر سرگرم ہے۔ اب تک اسلحہ، منشیات اور اے ٹی ایم کریڈٹ کارڈ کی معلومات ڈارک نیٹ پر فروخت کی جا رہی تھیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں اب ڈارک نیٹ پر بھی جعلی ویڈیوز بن رہے ہیں۔
ایک منٹ طویل ویڈیو کے لیے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ کام دو سطحوں پر کیا جاتا ہے۔ اسے مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں کوڈر اور ڈیکوڈر کی مدد لی جاتی ہے۔ ڈیکوڈر اس شخص کے چہرے اور اشاروں کی جانچ کرتا ہے جس کا ویڈیو بنایا جانا ہے۔ اس کے بعد اسے فرضی چہرے پر لگایا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
