نئی دہلی، 28 نومبر (ہ س)۔ لڑکیوں کو واٹس ایپ پر فحش پیغامات بھیج کر ان کو ہراساں کرنے والے ضلع شاہدرہ کے سائبر تھانے کی پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا ہے ۔ گرفتار ملزم کی شناخت روہت کمار (28) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے ملزمان سے واردات میں استعمال ہونے والا موبائل فون، سم کارڈ اور پاسپورٹ برآمد کر لیا۔
واقعے کے بعد ملزم شیف کی نوکری کرنے کروشیا چلا گیا تھا۔ جیسے ہی وہ ہندوستان واپس آیا، پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ ملزم نے ہوٹل مینجمنٹ کا کورس کر رکھا ہے۔ پولیس کی تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے درجنوں لڑکیوں کو ایسے ہی میسج بھیج کر ہراساں کیا ہے ۔
ڈی سی پی روہت مینا نے بتایا کہ گزشتہ سال 30 نومبر کوکڑکڑڈوما کی رہنے والی ایک 25 سالہ لڑکی نے واٹس ایپ پر ایک نوجوان کے ذریعہ ہراساں کئے جانے کی شکایت کی تھی۔ متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ملزم نے رات گئے اس کے موبائل پر فحش پیغامات بھیجے۔ اس کے بعد اس نے لڑکی پر اپنی پرائیویٹ تصویریں بھیجنے کے لیے دباو ڈالنا شروع کر دیا۔
اس کے انکار کے باوجود اس نے متاثرہ کو واٹس ایپ پر مسلسل ہراساں کیا اور فحش تصاویر اور ویڈیوز بھیجنا شروع کر دیں۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔
پولیس نے سی ڈی آر کی مدد سے ملزم کے مقام کا پتہ لگایا تو پتہ چلا کہ وہ ملک میں نہیں ہے۔ واقعہ کے وقت وہ ملک میں موجود تھا۔ پولیس اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی۔ اسی دوران نومبر میں جیسے ہی وہ ہندوستان واپس آیا، 23 نومبر کو پولیس نے ملزم کو مشرقی دہلی کے پانڈو نگر سے گرفتار کر لیا۔
دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ وہ رات گئے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر شراب پیتا تھا۔ بعد ازاں وہ رات گئے لڑکیوں کو فحش پیغامات بھیجتا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے بتایا کہ اس نے کئی نامعلوم لڑکیوں کو بھی اسی طرح کے پیغامات بھیجے تھے۔ پولیس باقی شکایت کنندگان کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
