حکومت کے وائٹ پیپر کے جواب میں بی آر ایس کی فیکٹ شیٹ جاری
حیدرآباد، 19 فروری ۔ سابق وزیراور رکن اسمبلی سدی پیٹ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس قیادت نے اسمبلی اجلاس سے عوام کی توجہ ہٹانے کی بھر پور کوشش کی۔ آج یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا پروجیکٹس کے کنٹرول کو کے آر ایم بی کے حوالہ کرنے سے گریز کرنے کے بجائے کانگریس حکومت نے بی آرا یس کے خلاف محاذ کھول دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جانب سے حکومت پردباؤ ڈالنے کے بعد ہی اسمبلی میں انہوں نے پروجیکٹس کو کے آرایم بی کے حوالے نہ کرنے کی قرارداد منظورکی۔
ہریش راو نے کہا کہ چھ ضمانتوں پرعمل آواری کے حوالے سے حکومت کے رویہ کاپردہ فاش کردیا گیا۔ کانگریس کی طرف سے اسمبلی میں پیش کیے گیے وائٹ پیپرکو غلطیوں کا پلندا قرار دیتے ہوئے ہریش راو نے کہا کہ کانگرس اپنے ہی ہاتھوں خود کو نقصان پہونچانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا اسمبلی میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کو متوازن ہونا چاہئے مگرکانگریس نے اپوزیشن کی آوازدبانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے کانگریس کے وائٹ پیپرکے خلاف بی آرایس کی طرف سے حقائق نامہ (فیاکٹ شیٹ) جاری کیا۔
کالیشورم پروجیکٹ پر ریاستی حکومت کی طرف سے اسمبلی میں وائٹ پیپر جاری کرنے کے بعد نے آج ایک حقائق نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کالیشوآرم پروجیکٹ کے متعلق یہی حقیقت ہے جس میں کالیشورم کے جملہ تفصیلات کو پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پروجیکٹ کی ری ڈیزائننگ کی وجوہات بیان کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا میڈی گڈہ میں ایک بیارج کی تعمیر، میڈی گڈا اور ایلم پلی کے درمیان دو مزید بیارج، انارم، سنڈیلا، نہروں، سرنگوں، لفٹ سسٹم، آبی ذخائر اور تقسیم کے نیٹ ورک کی دیکھ بھال میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ آیا کٹ کے تحت 16لاکھ ایکڑکے بجائے19.63 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جاسکے۔
بی آر یس نے وضاحت کی کہ مرکزی حکومت سے کالیشورم پروجیکٹ کے لیے حاصل کردہ اجازتوں میں بتایا گیا ہے کہ کالیشورم کے ذریعے 20,33,572 ایکڑ زمین کو براہ راست اور بالواسطہ طور پر سیراب کیا گیا ہے۔ کالیشورم کے اندر مختلف پروجیکٹس، پمپ ہاؤسس، ٹنل وغیرہ سے متعلق تفصیلات اورتصاویر کو بھی اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
