پروفیسر ڈاکٹر قاضی زین الساجدین صدیقی قاسمی، جو صدرجمہوریہ ایوارڈ یافتہ قاضی خاندان کے چشم و چراغ تھے، 10 مارچ 2025 کو انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے علمی و دینی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ ان کی نصف صدی پر محیط علمی و دینی خدمات کو دنیا بھر میں سراہا گیا، اور ان کے شاگردوں و بہی خواہوں نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔
BulletsIn
- علمی و دینی پس منظر – دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ رہے۔
- ملی و سماجی خدمات – آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، رابطہ مدارس دارالعلوم دیوبند، اور دیگر کئی اداروں میں فعال کردار ادا کیا۔
- امامت و خطابت – میرٹھ کی شاہی جامع مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے اور امن و امان کے قیام میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
- تصنیف و تحقیق – ان کی نگرانی میں سینکڑوں علمی و تحقیقی مقالات لکھے گئے اور شاگردوں نے ان کے علمی ورثے کو آگے بڑھایا۔
- بین المسالک مقبولیت – علمی، روحانی اور تہذیبی اثر و رسوخ کی بدولت تمام مذہبی و مسلکی طبقات میں مقبول رہے۔
- شخصی اوصاف – عاجزی، انکساری، محبت، خدمت خلق اور روحانیت کے باعث ہر طبقے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
- علمی ورثہ – ان کے شاگرد مختلف تعلیمی و دینی اداروں میں تدریس و تحقیق کے میدان میں سرگرم ہیں۔
- تعلیمی اداروں سے وابستگی – مختلف دینی و تعلیمی اداروں کی سرپرستی و رکنیت سے جڑے رہے اور ان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
- آخری سفر – 80 برس کی عمر میں 10 مارچ 2025 کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
- اظہار تعزیت – ملک بھر کے شاگردوں اور علمی شخصیات نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
