اسلام آباد، 19 فروری ۔ پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ آج (پیر کے روز) لاپتہ بلوچ طلبا کے معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔ اس سے قبل جسٹس محسن اختر کیانی نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر کاکڑ، وزیر دفاع اور داخلہ سمیت متعلقہ وزارتوں کے سکریٹریز کو طلب کیا گیا تھا۔ سب کو صبح 10 بجے اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
جیو نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ نے عبوری وزیراعظم کو 13 فروری کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں بینچ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ گزشتہ سماعت کے آغاز پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سماعت ملتوی کی جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل دستیاب نہیں، اس لیے سماعت ملتوی کی جائے۔ تاہم ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔
جسٹس کیانی نے تبصرہ کیا تھا کہ طلبہ کی جبری گمشدگی میں ملوث افراد کو دو بار سزائے موت دی جانی چاہیے۔ اس کے بعد انہوں نے قائم مقام وزیر اعظم سے ذاتی طور پر پیش ہو کر یہ بتانے کے لئے کہا کہ ان کے خلاف معاملہ کیوں درج نہ کیا جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں کیس میں مزید وقت درکار ہے تاہم جسٹس کیانی نے حکومتی استدعا پر غور کرنے سے انکار کردیا۔
یہ دوسری بار ہے جب قائم مقام وزیر اعظم کو ہائی کورٹ نے طلب کیا ہے۔ انہیں 22 نومبر 2023 کو وکیل ایمان مزاری کے دائر کردہ مقدمے میں ذاتی طور پر پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ وہ ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے۔
