نئی دہلی، 04 فروری (ہ س)۔
تاجروں کی تنظیم کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (سی اے آئی ٹی) نے تاجروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے کاروبار سے متعلق لین دین کے لیے پے ٹی ایم کے بجائے دوسرے ایپس پر جائیں۔ کیٹ نے یہ مشورہ ریزرو بینک آف انڈیا کے پے ٹی ایم والیٹ اورپے ٹی ایم بینک کے کاموں پر پابندیاں لگانے کے بعد دیا ہے۔
کیٹ کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ریزرو بینک کی طرف سے Paytm پر لگائی گئی حالیہ پابندیوں کی وجہ سے، ملک بھر کے تاجروں کو اپنے پیسے کی حفاظت کے لیے دوسرے پلیٹ فارم کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں چھوٹے تاجروں، دکانداروں، ہاکروں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد پے ٹی ایم کے ذریعے لین دین کر رہی ہے۔ اس پر آر بی آئی کی پابندی ان لوگوں کے لیے مالی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے۔ 29 فروری کے بعد ریزرو بینک کی جانب سے پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کو روکنے کی ایک اہم وجہ مناسب شناخت کے بغیر بنائے گئے کروڑوں اکاو¿نٹس تھے۔ دراصل، ان کھاتوں کے تحت کے وائی سی کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔ یہی نہیں کروڑوں روپے کی لین دین بھی بغیر شناخت کے کی گئی جس کی وجہ سے منی لانڈرنگ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
تاجروں کو اپنے پیسے کے خطرے کو کم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے، کیٹ جنرل سکریٹری نے کہا کہ وہ اپنے پیسے کو Paytm سے دیگر ادائیگی والے ایپس میں منتقل کریں۔ کھنڈیلوال نے Paytm صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ براہ راست یو پی آئی کے ذریعے لین دین کریں تاکہ تاجروں کے لین دین کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مالیاتی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کئی بینکوں کی ادائیگی ایپس بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
