اسلام آباد، 29 نومبر (ہ س)۔ پاکستان مینزکرکٹ کے ڈائریکٹر محمد حفیظ نے کہا کہ آسٹریلیا کا دورہ ان کی ٹیم کے لیے ایک دلچسپ چیلنج ہے، جہاں ٹیم کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اورحاصل کرنے کے لئے بہت کچھ ہے۔
پاکستانی ٹیم 14 دسمبر سے شروع ہونے والی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے طور پر تین میچوں کی سیریز کے لیے آسٹریلیا کا دورہ کرے گی۔ پاکستان نے 28 سال سے اس ملک میں کوئی ٹیسٹ نہیں جیتا ہے جبکہ اسے گزشتہ 14 ٹیسٹ میں مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
حفیظ، جنہوں نے آسٹریلیا میں کبھی ٹیسٹ نہیں کھیلا، نے اپنے اسٹائل سے ایک جارحانہ، جدید برانڈ کی کرکٹ کھیلنے اور اپنی ہارکی رفتار کو ایک موقع کے طور پر دیکھنے پر زور دیا۔
ای ایس پی این کرک انفو کے حوالے سے حفیظ نے کہا”ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اور حاصل کرنے کے لئے کافی کچھ ہے۔ ایک ٹیم کے طور پر، ہمارا مقصد وہ نہیں ہے جو تاریخ کہتی ہے، بلکہ وہ ہے جو ہم وہاں جا کر حاصل کرسکتے ہیں۔ذہنیت بہت واضح ہے، یہ ہمارے سامنے ایک بہت ہی دلچسپ چیلنج ہے اور مل کر ہم بہتر نتائج لاسکتے ہیں۔ میں ماضی کے نتائج کا جواب نہیں دے سکتا، لیکن یہاں سے آپ پاکستان کے لئے بہتر نتائج دیکھیں گے“۔
پاکستانی ٹیم نئے کپتان شان مسعود کے ساتھ آسٹریلیا جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ کوئی آفیشل ہیڈ کوچ نہیں ہے، حالانکہ گرانٹ بریڈ برن اب بھی باضابطہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ ہیں۔ پرانے ٹیم ڈائریکٹر مکی آرتھر نہیں ہیں اور پی سی بی نے سابق تیز گیند باز وہاب ریاض کو اس سال اپنا پانچواں سلیکٹر مقرر کیا ہے۔
میدان پر پاکستان کی فکر بنیادی طور پر بولنگ اٹیک کے گرد گھومتے ہیں۔ شاہین شاہ آفریدی فاسٹ باو¿لر ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ زخمی نسیم شاہ کی عدم موجودگی میں ان کا ساتھ کون دے گا۔ حسن علی بھی ایک تیز گیند باز کے طور پر مستحکم نظر آتے ہیں اور ابرار احمد نے حالانکہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اسپنر کے طور پر ان کے پاس اب بھی تجربہ کی کمی ہے۔
لیکن حفیظ اب بھی پراعتماد ہیں اور انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اچھے گیندباز ہیں، جو پاکستان کرکٹ کے پورے نظام میں بہترین ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی ایک کھلاڑی (نسیم شاہ) کی عدم موجودگی کو شکست کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک دلچسپ چیلنج ہے اور میں اسے بار بار دہراتا ہوں کیونکہ جب آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ پرجوش ہوجاتے ہیں، نسیم زخمی ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ آپ ایک کھلاڑی کی عدم موجودگی کو نقصان کے طور پر شمار کرسکتے ہیں۔ ہر کھلاڑی کو اچھی کارکردگی دکھانا ہو گی۔“
انھوں نے کہا کہ ‘اس ٹیم میں گیندبازی یونٹ میں اچھے گیندباز ہیں، پاکستان کے نظام میں بہترین لوگوں کو منتخب کیا گیا ہے، ہمارے پاس جوگیندبازی لائن اپ ہے، مجھے امید ہے کہ وہ وہاں فاتحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ جب آپ 20 وکٹیں حاصل کرتے ہیں ، تب ہی آپ کے پاس جیتنے کا موقع ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری گیندبازی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔“
حفیظ نے کہا کہ پاکستان کی بیٹنگ اچھی حالت میں ہے اور کھلاڑیوں کو جارحانہ کرکٹ کھیلتے ر ہنے کا پیغام ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ”ہر ٹیم کا جیتنے کا اپنا منتر اور حکمت عملی ہوتی ہے، ہم اس کے مطابق نہیں کھیلیں گے کہ دوسری ٹیم کیسے کھیلے گی، بلکہ ہمیں اپنی حکمت عملی بنانا ہوگی کہ ہم کیسے جیتیں گے۔ پاکستان کرکٹ نے ہمیشہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جب وہ جارحانہ ہوتے ہیں۔ یہ تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ جارحانہ ذہنیت کے ساتھ کھیلیں۔ ہم کسی اورکی اسٹائل میں تبدیلی نہیں کریں گے، لیکن ہم اپنا خودکا مضبوط اسٹائل چاہتے ہیں۔“
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جدید کرکٹ کھیلنے کی جانب پہلا قدم اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا، ”جدید دور کی کرکٹ ایسی کوئی گولی نہیں ہے جسے آپ نگل لیں اور آپ اسے اچانک کھیلنا شروع کر دیں۔ یہ ایک ارادہ ہے، سوچنے کا ایک طریقہ ہے کہ آپ ایک غالب والی پوزیشن میں کھیلنا چاہتے ہیں، ہر وقت کھیل میں آگے رہنا چاہتے ہیں۔ ہر کوئی اس سطح پر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن جب تک یہ متاثر کن نہ ہوتب تک اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر آنا ہوگا اور ٹیم کے اہداف کے حصول اور متاثر کن ہونے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ امید ہے کہ آپ پاکستان کرکٹ کو جدید کرکٹ کھیلنے کی طرف پہلا قدم اٹھاتے ہوئے دیکھیں گے۔“
ہندوستھان سماچار
