نئی دہلی، 16 اکتوبر- افغانستان نے اتوار کو دفاعی چیمپئن انگلینڈ کو 69 رنوں سے شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا ہے ۔ انگلینڈ کے پاس افغانستان کی اسپن کا کوئی حل نہیں تھا اور انگلش ٹیم کو دہلی کی کنڈیشنز کو اچھی طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔
انگلش ٹیم اس گراونڈ پر 285 رنوں کے ہدف کا تعاقب نہیں کر سکی جہاں جنوبی افریقہ سری لنکا کے میچ میں 754 رن بنائے گئے تھے اور بھارت نے صرف چار روز قبل افغانستان کے 272 رنوں کے ہدف کا تعاقب باآسانی کر لیا تھا۔
میچ کے بعد کی پریس کانفرنس میںمایوس نظر آرہے جوس بٹلر نے کہا”دیکھئے ،ہم ہمیشہ مثبت کھیلنا چاہتے ہیں اور جارحانہ ہونا چاہتے ہیں اور کچھ دن آپ اتنا اچھا نہیں کھیل پاتے جتنا آپ چاہتے ہیں“۔
انھوں نے کہا، ”حالانکہ افغانستان نے ہم پر اچھا دباو ڈالا، لیکن شاید وکٹ بالکل ایسی نہیں تھی جس طرح ہم نے سوچی تھی کہ یہ کھیلے گی اور شاید اوس اتنی نہیں آئی جتنیکہ ہم نے سوچا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہمارے اسپنرز نے واقعی اچھی گیندبازی کی اور افغانستان نے اچھا مظاہرہ کیا۔ ان کی ٹیم میں کچھ لاجواب اسپنرز ہیں ،اس لیے یہ ہمیشہ مشکل ہوتا تھا لیکن ہم وہ شراکت حاصل نہیں کر سکے جو ہم چاہتے تھے۔“
بھارت اور افغانستان کے درمیان کھیلے گئے میچ کے نتیجے نے انگلش ٹیم کے انتخاب کو بھی متاثر کیا۔ دھرم شالہ میں، انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف کھیل میں پچ کو درست طریقے سے پڑھا، معین علی کی جگہ ریس ٹوپلی کی شکل میں ایک اضافی تیز گیند باز شامل کیا، جبکہ بنگلہ دیش نے تیسرے اسپنر کا انتخاب کیا۔ دہلی میں وہ اسی الیون پر اٹک گئے،اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ بھارت نے روی چندرن اشون کو بھی ڈراپ کر کے شاردل ٹھاکر کو منتخب کیا تھا۔
بٹلر نے کہا،”ہاں، معین سلیکشن کے قریب تھے اور ہاں، سلیکٹ بھی ہوئے تھے… یہاں پہلے چند میچ دیکھنے کے بعد، ظاہر ہے کہ ہندوستان اپنی لائن اپ میں ایک اضافی تیز گیند باز کے ساتھ گیا تھا۔ ہم نے سوچا کہ وکٹ ویسی ہی کھیلے گی۔ اور اسی طرھ یا شاید دوسرے ہاف میں اوس آجائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا“۔
انہوں نے کہا”لیکن نہیں، مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس جو بھی لائن اپ تھی، وہ خراب تھی، آج ہم اتنے اچھے نہیں تھے اور ہم نے کافی اچھا نہیں کھیلا اور اس کا پورا کریڈٹ افغانستان کو جاتا ہے، وہ جیت کے حقدار تھے۔یہ حالات شاید بالکل ویسے نہیں تھے جو ہم نے سوچا تھا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم وہ شراکت داری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ، جو ہم چاہتے تھے۔“
رحمان اللہ گرباز کی 57 گیندوں پر 80 رنوں کی اننگ نے افغانستان کو تقویت بخشی جس کے بعد بھارت میں ورلڈ کپ کا اپنا پہلا میچ کھیلنے والے اکرام علی خیل (58) کی نصف سنچری نے افغان ٹیم کو واپسی دی۔ افغانستان کو 284 رنوں کے چیلنجنگ اسکور تک پہنچانے میں ان کی اننگز اہم رہی جس میں مجیب الرحمان اور راشد خان نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد محمد نبی، مجیب اور راشد کی اسپن تکڑی نے انگلینڈ کی 10 میں سے 8 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کو 69 رن کی شاندار فتح دلائی۔
